مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
بمقابلہ چڑیا گھر، مسجد پنج پیراں وغیرہ۔ اسی طرح مدرسہ زینت القرآن حوض رانی، مدرسہ اشاعت الاسلام (واقع فیروز شاہی جامع مسجد)، مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد ڈیفنس کالونی، وغیرہ۔ حافظ صاحب نے جب بھی کوئی مسجد آباد کی یا کوئی مدرسہ قائم کیا تو ان مقامات پر اپنا قبضہ جمانے کے بجائے لائق شخصیات کو وہاں متعین کر کے ان کو ان کے حوالے کر دیا، مثلاً خیر المنازل میں مولانا الیاس امینی کو امام متعین کیا۔ اسی طرح ڈیفنس کالونی کی جامع مسجد میں مولانا محمد عیسیٰ کو امام مقرر کیا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم اور ناظم بھی ہیں۔ مولانا عیسیٰ نے اپنی محنت سے اس مسجد اور مدرسہ کو کافی وسیع کر لیا ہے۔ وہاں آج ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ وعیدین ادا کرتے ہیں۔ کلاں مسجد بستی نظام الدین میں اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو مقرر کیا۔ حافظ عبدالغفور صاحب اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے رہتے۔ ابتداء سے ہی کلاں مسجد بستی نظام الدین کا نظم و ضبط مولانا ہارون کے ذمہ رکھا۔ مولانا ہارون صاحب کا کام گویا کہ حافظ صاحب کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ مولانا ہارون آج بھی کلاں مسجد کی تعمیر و توسیع کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد کے اندر حافظ صاحب کا قائم ہوا مدرسہ اشاعت الاسلام بھی ترقی کر رہا ہے۔ اس میں بیرونی طلبہ کے قیام و طعام کا معقول انتظام ہے۔ دوسری جگہوں کی نگرانی بھی حافظ صاحب نے انہیں کے سپرد کی۔ تمام مقدمات کی پیروی بھی مولانا ہارون صاحب ہی کرتے رہے۔ مولانا ہارون صاحب کو آخر وقت تک حافظ صاحب کی یہی تاکید تھی کہ مسجد کو کبھی سیاسی اکھاڑہ نہ بننے دینا۔ حافظ صاحب کی عمر کا ایک طویل عرصہ آثار قدیمہ، ڈی ڈی اے، کارپوریشن، تیس ہزاری کورٹ، دہلی وقف بورڈ اور جمعیۃ علماء کے چکر کاٹنے میں گزرا۔ کیوں کہ انہوں نے پرامن اور قانونی ذرائع سے یہ کامیابی حاصل کی اور ایک تعمیری جدوجہد کی تاریخ چھوٹی۔ 1947 کے بعد مسلمانوں میں بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر انہیں لوگوں نے کیے ہیں، جنہوں نے مسجد اور مدرسہ کو اپنے عمل کا میدان بنایا اور خاموش اور پرامن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader