علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
انداز کو اپنی جدوجہد کے لیے اختیار کیا۔ اس کے برعکس، معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو عام طور پر سیاسی طریقہ کہا جاتا ہے، ایسے لوگوں نے ملت کو صرف نقصان پہنچایا، وہ ملت کو کوئی بھی مثبت تحفہ نہ دے سکے۔ حافظ عبد الغفور صاحب جیسے بہت سے خاموش دینی خادم ملک میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کی راہ سے کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی صرف شخصی لیڈری ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی ملی اور دینی کام۔ (الرسالہ مئی 1999) استقلال کا کرشمہ دار العلوم دیوبند اب عربی اور دینی علوم کی مشہور ترین درس گاہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اس کا بجٹ ایک کروڑ روپیہ تک پہنچ گیا ہے۔ مگر آغاز میں وہ ایک معمولی مدرسہ سے بھی کم تھا۔ 15 محرم 1383ھ (30 مئی 1867ء) کو دیوبند کی چھتہ مسجد میں یہ تعلیمی ادارہ شروع ہوا۔ اس وقت اس میں صرف دو آدمی تھے۔ ایک استاد اور ایک طالب علم۔ اس کے پہلے استاد کا نام ملا محمود تھا، اور اس کا پہلا طالب علم وہ نوجوان تھا جس نے بعد کو مولانا محمود (شیخ الہند) کے نام سے شہرت پائی۔ یہ استقلال کا کرشمہ ہے، کوئی کام اگر شروع کیا جائے اور شروع کرنے کے بعد اس کو برابر جاری رکھا جائے تو طویل مدت گزرنے کے بعد بالآخر وہ اسی طرح کامیاب ہوتا ہے جس طرح دیوبند کا تعلیمی ادارہ کامیاب ہوا۔ (ڈائری، 28 مارچ 1983)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader