Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

جامعہ دارالسلام کا سفر جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، جو جامعہ دارالسلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ وہ انڈیا کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ 7 جون 2010 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی، اور 11 جون 2010 کی شام کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اس سفر میں مولانا محمد ذکوان ندوی میرے ساتھ تھے۔ اس سفر کے لیے ہمارا ریزرویشن جیٹ ایئرویز سے تھا۔ دہلی کا ایئر پورٹ دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ دہلی سے مدراس (چنئی) کی دوری ایک ہزار سات سو کلومیٹر (1,700 km) ہے۔ یہ سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ ایئر پورٹ کے عملہ میں مدراس کے ایک صاحب انجینئر محمد آزاد جہاز سے اترتے ہی مل گئے۔ انہوں نے بہ سہولت ایئر پورٹ کی تمام کارروائی مکمل کر دی۔ ہم لوگ ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو وہاں جامعہ دارالسلام کی طرف سے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ مدراس سے جامعہ دارالسلام 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ روڈ بہت اچھی تھی۔ یہ وہی روڈ ہے جس کو نیشنل ہائی وے (نمبر 46) کہا جاتا ہے۔ اس ہائی وے کو ایک مسلم بلڈر نے بنایا ہے۔ ہماری کار کے ڈرائیور مسٹر مورتی (44 سال) تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ 30 سال سے ڈرائیونگ کا کام کر رہے ہیں، مگر اُن کے ساتھ کبھی روڈ ایکسیڈنٹ کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے لیے ان کا سادہ فارمولا یہ ہے — پہلے سیفٹی پھر اسپیڈ۔ یہ فارمولا صرف کامیاب ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس فارمولے کی یکساں اہمیت کامیاب قیادت کے لیے بھی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page