Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

ملت کو ہر جگہ صرف تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ وہ مذکورہ ڈرائیور کی طرح قیادت کا کامیاب فارمولا دریافت نہ کر سکے۔ راستے میں، ہم لوگ عصر کی نماز پڑھنے کے لیے میل وشارم (Melvisharam) میں کچھ دیر کے لیے ٹھہرے ۔ میل وشارم، ضلع ویلور (Vellore) کا ایک خوب صورت ٹاؤن ہے۔ یہ مدراس سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں مسلم تاجروں نے کئی اچھے کالج اور ہاسپٹل قائم کیے ہیں۔ انھیں اداروں میں سے ایک عربی مدرسہ مفتاح العلوم ہے۔ وہ 1976 میں قائم کیا گیا ۔ یہاں حفظ کے علاوہ، عالمیت تک درسِ نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ مفتی ریاض احمد قاسمی اس کے مہتمم ہیں۔ یہاں کے وسیع مہمان خانے میں اساتذہ کی ایک نشست ہوئی ۔ اس موقع پر میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں پچھلی صدیوں میں افغانستان اور ایران وغیرہ کے راستے سے مسلم سلاطین آئے۔ ان سلاطین نے صرف اپنی سلطنتیں قائم کیں اور سیاسی فتوحات کی تاریخ بنائی۔ انہوں نے یہاں حقیقی معنوں میں کوئی دینی کام انجام نہیں دیا۔ اب ان کی یادگار صرف قلعے اور مقبرے ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہندوستان میں حقیقی معنوں میں مثبت دینی کام اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو علما اور صوفیا کہا جاتا ہے۔ علما نے مدرسے قائم کر کے دینی علم کو زندہ رکھا۔ صوفیا نے خانقاہوں کے ذریعے دعوت اور روحانیت اور اخلاقیات کا عمل انجام دیا۔ مدرسہ اور خانقاہ کا طریقہ دوسرے الفاظ میں، غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کا طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت ایک اعتبار سے اسی طریقِ عمل کا ایک تسلسل ہے۔ انڈیا کی اِس انفرادی صفت کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہاں ملٹنسی (militancy) نہیں پھیلی، جیسا کہ اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران، وغیرہ۔ میل وشارم میں عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے اساتذہ اور طلبا کو دعوتی لٹریچر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page