جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
7 جون 2010 کی شام کا کھانا اس انداز کا تھا جس کو عام طور پر "پرتکلف عشائیہ" کہا جاتا ہے۔ بعد کو میں نے یہاں کے منتظمین سے کہا کہ میں اس قسم کے کھانے کا عادی نہیں ہوں۔ میں یہاں جب تک ہوں، میں صرف جامعہ کے مطبخ (مطعم) کا کھانا کھاؤں گا، یعنی وہ کھانا جو جامعہ کے طلباء کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے کھانے کا ٹائم بھی وہی ہوگا جو جامعہ میں عام طور پر طلباء کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تک میں یہاں رہا، مطبخ کا کھانا کھاتا رہا۔ یہ کھانا بالکل سادہ تھا اور میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ مولانا اسرار الحسن عمری جو یہاں ہم لوگوں کے کھانے کے ذمے دار تھے، انہوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح کو مجھے جامعہ کے دفتر میں بلایا گیا۔ نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کھانے وغیرہ کا کیا نظام ہے۔ میں نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ میں جب تک جامعہ میں ہوں، مطبخ کا کھانا کھاؤں گا۔ میرے لیے الگ سے کوئی اہتمام نہ کیا جائے۔ میری بات سن کر نائب ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ : فَكُلُّ مُشْكِلَةٍ حُلَّتْ ( پھر تو ساری مشکل آسان ہو گئی )۔ کیوں کہ مہمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کھانے کا ہوتا ہے۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری صاحب کے گھر سے کھانا کھا کر ہم لوگ واپس جامعہ کے کیمپس میں آگئے۔ یہاں کئی علما کے ساتھ میں دیر تک جامعہ کی کھلی فضا میں واک (walk) کرتا رہا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ذکر کے بارے میں ارشاد ہوا ہے : الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ (3:191) ۔ یعنی، کچھ لوگ کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے تجربے کے مطابق ، اس میں ایک اور ذکر کا اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے واکنگ ذکر (walking zikr)۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ واک کرتا ہوں۔ مگر میری واک صرف واک نہیں ہوتی، بلکہ وہ واکنگ ذکر ہوتی ہے۔ ذکر کیا ہے۔ ذکر دراصل تفکر کا نام ہے۔ سلف صالحین نے ذکر کا یہی مطلب بتایا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader