جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر ملاحظہ ہو علامہ ابن القیم الجوزیۃ (وفات 751 ھ) کی کتاب: مفتاح دار السعادۃ ومنشور ولایۃ العلم والإرادۃ۔ علامہ ابن قیم نے اس کتاب میں تند کر اور تفکر کو ہدایت کی اصل قرار دیا ہے (التَّفَكُّرُ وَالتَّذَكُّرُ أَصْلُ الْهُدَى وَالْفَلَاحِ، هُمَا قُطْبَا السَّعَادَةِ)۔ تفکر کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مثلاً یہاں آپ جامعہ کے کیمپس میں واک کر رہے ہیں۔ یہاں چاروں طرف سرسبز درخت کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے درخت کو دیکھا۔ آپ کو یاد آیا کہ درخت اپنے اندر ایک انوکھی صفت رکھتا ہے، وہ یہ کہ وہ ایک نمو پذیر وجود (growing entity) ہے۔ درخت کے بارے میں اس طرح سوچتے ہوئے آپ کو یاد آیا کہ ایمان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایمان بھی ایک نمو پذیر حقیقت ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ اسی لیے قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (ابراہیم، 14:24)۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ درخت کی نمو پذیری قانون فطرت کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان خود اپنے ارادے کے تحت غور و فکر کرتا ہے اور اس طرح وہ خود اپنے ارادے کے تحت اپنے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ واک کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ (مکتبہ عمر) پر آگئے۔ یہاں کمرے میں دوبارہ تقریباً 10 علما اکٹھا ہوگئے ۔ ان سے دیر تک دینی اور دعوتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس وقت ایک بات میں نے کہی کہ جو لوگ صرف عوام کے درمیان کام کرتے ہیں، عام طور پر ان کا ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ لیکن جو لوگ خواص کے درمیان دعوتی کام کریں ، ان کا مسلسل ذہنی ارتقا ہوتا رہے گا۔ گویا کہ عوام کے درمیان دعوتی کام یک طرفہ نوعیت کا کام ہے، یعنی ایک سننے والا ہے اور دوسرا سنانے والا ۔ اس کے برعکس، خواص کے درمیان دعوتی کام دو طرفہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں ایک طرف مدعو کو نئی باتیں ملتی ہیں، اور دوسری طرف داعی کو ڈسکشن اور ڈائیلاگ کے دوران نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ پہلا طریقہ اگر یک طرفہ تعلیم (unilateral learning) پر مبنی ہے، تو دوسرا طریقہ دو طرفہ تعلم (bilateral learning) پر مبنی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader