Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح میں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں چار قابلِ انعام گروہوں کا ذکر آیا ہے: اَلَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ (69: 4)۔ یعنی، وہ گروہ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اس آیت میں انبیاء سے مراد پیغمبر ہیں، اور صدیقین سے مراد اصحابِ پیغمبر، اور شہداء سے مراد دُعاۃ کا گروہ ہے۔ صالحین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیے قرآن میں دوسری جگہ مقتصد (فاطر، 35:32) کا لفظ آیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ معرفت کے تمام درجات اپنی نوعیت کے اعتبار سے آج بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ اعلیٰ درجہ بھی جس کے بارے میں حدیث میں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: اِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَّيْسُوا بِاَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22906)۔ یعنی، بے شک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوں گے جو نہ نبی ہوں گے اور نہ شہید، مگر ان کی مجلسوں اور اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ انبیاء کے اس رشک کا سبب غالباً یہ ہوگا کہ جو درجہ معرفت انبیاء نے فرشتہ جبریل کے ذریعے حاصل کیا، اُسی نوعیت کی معرفت یہ لوگ فرشتہ جبریل کے بغیر حاصل کر لیں گے۔ معرفت کا یہ حصول بعد کے زمانے میں اہل ایمان کے لیے سائنسی دریافتوں کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ دہلی کے مقابلے میں عمر آباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ دہلی میں درجہ حرارت 41 ڈگری تھا، جب کہ یہاں کا درجہ حرارت 31 ڈگری ہے۔ رات نہایت سکون کے ساتھ گزری۔ 8 جون 2010 کو فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ دارالسلام کے کیمپس کے اندر واقع مسجد سلطان میں پڑھی۔ یہ مسجد 1993 میں بنائی گئی۔ مسجد کافی وسیع اور سادہ تھی۔ عام روایت کے خلاف اس مسجد میں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ ایک مینار کا طریقہ مجھے پسند ہے۔ ایک مینار توحید کی علامت معلوم ہوتا ہے۔ ہم لوگ نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ہر طرف فطرت (nature) کا ماحول تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page