Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

جامعہ دارالسلام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ہر طرف سرسبز درخت دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کی تعمیر دراصل ایک وادی (valley) میں ہوئی ہے۔ اس کے بیرونی حصے میں دور تک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کے مغرب میں جو پہاڑی سلسلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو ’’کیش گرى‘‘ کہا جاتا ہے۔ جامعہ میں قیام کے دوران ہر وقت علما کا ساتھ ہوتا تھا۔ اس واک کے دوران بھی کئی علما ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ جامعہ کا یہ خوش منظر جائے وقوع دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بہت پہلے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا—فطرت کی آغوش میں۔ اس مضمون میں میں نے لکھا تھا کہ میری تمناؤں میں سے ایک تمنا یہ ہے کہ فطرت کے مناظر کے درمیان ایک دینی مرکز بنایا جائے ۔ یہ مرکز گویا کہ ہمارے افکار کا ایک عملی مظاہرہ ہوگا۔ یہاں جب خدا کی عظمت بیان کی جائے گی تو درخت اور پہاڑ اور آسمان اس کی عملی تصدیق کر رہے ہوں گے، اور چڑیاں اپنے چہچہے کے ساتھ اس کی ہم آواز بنی ہوئی ہوں گی۔ اب جامعہ دارالسلام کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا خواب یہاں واقعہ بن چکا ہے۔ کیوں کہ جامعہ کا مقصد بھی تقریبا وہی ہے جس کو میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنا مشن بنا رکھا ہے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ ہماری اس واک کے دوران دوسرے علماۓ جامعہ کے علاوہ، جامعہ دارالسلام کے دونوں بڑے ذمے دار بھی موجود تھے—مولانا کاکا سعید احمد عمری، اور مولانا کا انیس احمد عمری۔ واک کرنے کے دوران میں نے ایک بات یہ کہی کہ یہاں آ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ دارالسلام دوسرے مدارس کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ مثلاً یہاں کی مسجد میں اکثر اوقات طلبا امامت کرتے ہیں۔ ہر نماز ایک الگ طالب علم پڑھاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ طلبا کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ تعلیم کے دوران تربیت بھی حاصل کرتے رہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page