Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

مارننگ واک (morning walk) کے بعد ہم لوگ لائبریری کی عمارت کے باہر کھلی فضا میں بیٹھ گئے۔ موسم بہت خوش گوار تھا۔ یہاں مولانا کا سا سعید احمد عمری کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ اور کئی دیگر علما موجود تھے۔ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ مدارس کے ذمے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ طلبا کو لسانِ عصر میں مخاطب کیا جائے، ورنہ ان کا مائنڈ ایڈریس نہ ہوگا۔ یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ تعلیمِ دین کے کافی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں اور جدید انسان کے سامنے مؤثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔ میں نے کہا کہ الرسالة مشن در اصل اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا میں یہ واحد مشن ہے جو اس فکری ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ 1959 میں ایک مشہور ہندوستانی عالم کی ایک کتاب چھپی۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: رَدّۂ ولا آبا بكر لها۔ میں نے اس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual dissatisfaction) کا کیس ہے۔ الرسالة مشن کے تحت 1976 سے اس بنیاد پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر اس میں تعقل پسندی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page