جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اس کی کوئی مثال دیجیے، مگر وہ کوئی مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ جب تک آدمی کے پاس کوئی متعین مثال نہ ہو، اُس وقت تک اس طرح کا تبصرہ کرنا آدمی کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ دو چیزوں میں فرق نہیں کر پاتے۔ ایک ہے تعقل پسندی اور دوسری چیز ہے اسلوب جدید۔ معروف معنی میں، میں ہرگز تعقل پسند نہیں ہوں، البتہ میری تحریروں میں جدید اسلوب ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ دونوں میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ایک تعقل پسند انسان ہوں۔ حالاں کہ مجرد تعقل پسندی ایک غیر مطلوب چیز ہے اور اسلوب جدید بلا شبہ عین مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے کہا کہ عقل کے استعمال کی دو صورتیں ہیں—ایک یہ کہ عقل کو بذاتِ خود صحیح اور غلط کا معیار سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ نقلی (traditional) طور پر ایک ثابت شدہ بات کی مزید تائید کے لیے عقل کا استعمال کیا جائے۔ عقل کا اس طرح تائیدی استعمال خود قرآن سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر جدید عقل پسند انسان یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ہر اعتبار سے کامل مساوات ہونا چاہیے۔ میں اس عقلی نقطۂ نظر کو نہیں مانتا۔ اس کے بجائے میں قرآن کے نقطہ نظر کو مانتا ہوں جس میں عورت اور مرد کے درمیان فطری فرق کی بنا پر ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو معتبر قرار دیا گیا ہے (البقرۃ، 2:282)۔ قرآن کے اس نقطہ نظر کی تائید کے لیے میں نے ایک سائنسی دلیل دی ہے۔ وہ یہ کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک ناقابلِ تغیر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طور پر single focussed mind ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طور پر multi focussed mind رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ ماہ نامہ الرساله (اپریل 2006، صفحہ 7) میں دیکھ سکتے ہیں۔ 8 جون 2010 کی صبح کو جامعہ کے گلّیہ ہال میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔ یہ یہاں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader