جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ قیام کا پہلا پروگرام تھا۔ یہاں میں نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کچھ باتیں کہیں۔ اس کے بعد میں نے اس پروگرام میں جو مزید باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ سے میرا ایک فطری تعلق رہا ہے۔ جامعہ دارالسلام 1924 میں قائم ہوا، اور یہی وہ سال ہے جب کہ میری پیدائش ہوئی۔ جامعہ سے اسی بلا اعلان تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے اپنے پہلے فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو 1957 میں تعلیم کے لیے یہاں بھیجا۔ جامعہ کے لیے میرا پہلا سفر 1977 میں ہوا۔ یہ سفر جامعہ کی دعوت پر 18-16 اپریل 1977 کو اس کی گولڈن جُبلی (المہرجان الذہبی) میں شرکت کے لیے ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا جو ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 1977، میں شائع ہوا۔ اس مقالے کا عنوان یہ تھا: دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات بعد کو یہ مقالہ عربی زبان میں ”امکانات جدیدة للدعوة“ کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہ مقالہ 36 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کو قاہرہ سے المختار الإسلامی پبلشرز نے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔ اب وہ مقالہ راقم الحروف کی کتاب ”ظہور اسلام“ میں ”اسلامی انقلاب: تاریخ انسانی کے لیے نیا موڑ“ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس سفر کی مختصر روداد اُسی زمانے میں ماہ نامہ الرسالہ، اگست 1977 میں چھپی تھی (صفحہ 52)۔ جامعہ دارالسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آغاز ہی سے تعارفِ اسلام کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1978 میں ہوا، جب کہ یہاں تعارفِ اسلام کے نام سے ایک مستقل شعبہ کھلا اور اس کے لیے ایک علاحدہ عمارت بنائی گئی جو اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک سالہ کورس ہے اور اس میں مدارس عربیہ سے فارغ حضرات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ صبح کے اس پہلے پروگرام کے بعد دوسرا پروگرام لائبریری کے ہال میں تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اساتذہ کے لیے خاص تھا۔ اس میں جامعہ کے تمام اساتذہ شریک تھے۔ اساتذہ کے اس اجتماع میں گفتگو کا موضوع ”تعلق مع اللہ“ تھا۔ اس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader