Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ تعلق باللہ کا مطلب ہے ۔ ذکر اللہ ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : کَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔ یعنی ہر حین (occasion) کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یاد کرنا۔ میں نے کہا کہ تعلق باللہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو تدبر اور تفکر اور توسم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ذکر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذکر کثیر ورد کثیر کا نام نہیں ہے ، بلکہ وہ تفکر کثیر کا نام ہے۔ آخر میں سامعین کی طرف سے مختلف سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے آج اپنی صبح کی تقریر میں موثر دعوت کے لیے صبر کی اہمیت بتائی تھی اور یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک بدو مدینہ آیا اور اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ آپ نے اُس سے درگزر کا معاملہ فرمایا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس بدو نے نادانی میں ایسا کیا تھا، مگر آج مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے واقعات عداوت کی بنیاد پر ہورہے ہیں، پھر اس سے کیسے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا اس سوال کا جواب صبح کے اجتماع میں قاری صاحب نے اپنی تلاوت کے ذریعہ دے دیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی تھی : اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (41:34)۔ یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اِس آیت کے مطابق ہم کو ”عدو“ کے ساتھ بھی وہی حسن سلوک کرنا ہے جو نادان کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی ردعمل کا طریقہ اپنانے کے بجائے صابرانہ طریقہ اپنانا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں، مسلمان تو مسلسل صبر ہی کررہے ہیں، لیکن اُنہیں صبر کا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، وہ برابر ذلت و ناکامی کا شکار ہورہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page