جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
ظہیر الدین صاحب کے یہاں کھانے کے لیے جانا منظور کر لیا۔ اس موقع پر جامعہ کے کئی علما بھی شریک تھے۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے ذکر کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ ذکر سب سے بڑی ہستی کو یاد کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ اس لیے ذاکر کے اندر اُسی عظیم ہستی کی نسبت سے کیفیات پیدا ہونی چاہئیں۔ جس ذکر میں ذاکر کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں، وہ ذکر ایسا ہی ہے جیسے پلاسٹک کا بنا ہوا گلاب کا پھول۔ بظاہر وہ پھول ہے، لیکن اس سے آدمی کو کوئی خوشبو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی پھول آدمی کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ اسی طرح حقیقی ذکر وہ ہے جو آدمی کو اعلیٰ ربانی کیفیات سے معمور کر دے۔ 9 جون 2010 کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے جامعہ کے کیمپس میں واک کی۔ اس کے بعد مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ان کے گھر جاؤں اور وہاں صبح کی چائے پیوں۔ میں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ چائے پر بلاتے ہیں اور پھر پر تکلف ناشتے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ وعدہ کریں کہ آپ کے یہاں صرف چائے ہوگی اور دوسرا کوئی بھی آئٹم نہ ہوگا، تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے وعدہ کیا۔ چنانچہ میں ان کے یہاں گیا اور واقعتاً انہوں نے اپنے وعدے کو نبھایا۔ اس مجلس میں اور بھی کئی علما موجود تھے۔ مولانا محمد ابراہیم عمری، مولانا کا نیس احمد عمری، وغیرہ۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی۔ میں نے کہا کہ آج کل تسبیح فاطمہ کا بہت رواج ہے۔ لیکن یہ لوگ تسبیح فاطمہ کو اس کی پوری شکل میں نہیں لیتے، بلکہ ادھوری شکل میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی علہیم نے یہ تسبیح اپنی صاحب زادی فاطمہ کو خادم کے بدل کے طور پر بتائی تھی۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے تسبیح فاطمہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر لیا ہے اور وہ اس کو پراسرار فضیلت کے طور پر پڑھتے ہیں، حتی کہ اس کی بنیاد پر تسبیح کا بہت بڑا کاروبار ساری مسلم دنیا میں قائم ہے۔ مزید یہ کہ پہلے وہ اپنی صاحب زادیوں کے لیے ہر قسم کی مادی سہولت فراہم کرتے ہیں اور پھر تبرک کے طور پر ان کو تسبیح اور مصلیٰ بھی دے دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader