Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ذکر کے فارم کا انکار کرتے ہیں ، حالانکہ ذکر کا فارم تو قرآن میں موجود ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اعتراض محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر الفاظ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کسی چیز کا تصور کرنے کے لیے الفاظ کا محتاج ہے۔ اسی طرح ذکر کے لیے بھی الفاظ ضروری ہیں۔ میں دراصل ذکر کی موجودہ شکل کو ذکر کا تصغیری فارم سمجھتا ہوں، جس میں ذکر کو اس کی اسپرٹ سے الگ کر دیا گیا ہے۔ ذکر کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت کا مطالعہ کیجیے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اَلَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اَللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ (8:2)۔ یعنی ، ایمان والے وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق ، ذکر وہ ہے جو اگرچہ الفاظ کی صورت میں ظاہر ہو، لیکن اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے وہ ایک ہلچل کی مانند ہو، جس سے ذاکر کا قلب دہل اٹھے، جو اس کے دل ودماغ کے لیے ایک طوفانی تجربہ بن جائے، جو آدمی کے لیے خداوند ذوالجلال کی دریافت کے ہم معنی بن جائے۔ گفتگو کے دوران کا کا انیس احمد عمری سے میں نے پوچھا کہ آپ کی فیملی ایک جوائنٹ فیملی ہے۔ جوائنٹ فیملی میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ لوگ کس طرح اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ کا کا انیس صاحب نے کہا کہ اس کا فارمولا ہے - صبر وبرداشت سے کام لینا اور دوسروں کی کمی کو نظر انداز کرنا۔ اس میں سب سے اہم رول گھر کے بڑے کا ہوتا ہے۔ گھر کا بڑا اگر دانش مندی سے کام لے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ۔ یہ فارمولا مجھے بہت پسند آیا۔ یہ سادہ بھی ہے اور پوری طرح قابلِ عمل بھی، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ 9 جون 2010 کا پروگرام صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا تھا۔ اس سے پہلے کئی علما میرے کمرے میں آگئے ۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page