Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں کہا تھا کہ ذکر تجدید شعور کا نام ہے، تکرارِ لفظی کا نام ذکر نہیں، حالاں کہ احادیث میں بہت سی روایات ذکر کے سلسلے میں آئی ہیں۔ میں نے کہا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا، اُس کا تعلق نفسِ ذکر سے نہیں ہے، بلکہ تصورِ ذکر سے ہے۔ ذکر کی اہمیت بلا شبہ بہت زیادہ ہے، لیکن ذکر سے مراد تکرارِ معانی ہے، نہ کہ مجرد تکرارِ الفاظ۔ جب انسان اپنے خالق کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں ایک تموج پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ داخلی تموج جب الفاظ کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ذکر ہے۔ مجلس کے دوران مولانا کا سا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ اور دُعاۃ بیٹھے ہوئے تھے، جو اُن کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ کا کا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اُسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد کا کا صاحب خاموشی کے ساتھ کمرے کے ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے— یہ منظر میں نے صرف جامعہ دارالسلام میں دیکھا۔ 9 جون 2010 کو ”تزکیہ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ اس خطاب کا انتظام جامعہ کی لائبریری کے ہال میں کیا گیا تھا۔ اس خطاب میں جو باتیں میں نے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عام طور پر تزکیہ نفس کے موضوع کو ایک پر اسرار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ نفس کو تزکیۂ قلب کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ ذہن ہے، یعنی نفسیاتی تزکیہ۔ تزکیہ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر شخصیت کہا جا سکتا ہے، یعنی روح انسانی کی تطہیر (purification of soul)— تزکیہ نفس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنا بے رحمانہ محاسبہ کرے اور اپنی شخصیت کو تمام منفی اور نامطلوب عناصر سے پاک کر کے اپنے آپ کو ربانی انسان بنائے۔ تزکیہ نفس کوئی وقتی عمل نہیں، وہ تاحیات جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔ تزکیہ نفس کا کوئی تعلق مروّجہ مراقبہ (meditation) سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق تمام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page