جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
تر فکر اور تدبر سے ہے۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات 728ھ) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ تزکیہ نفس کا ذریعہ تذکر اور تفکر ہے: أَنَّ التَّذَكُّرَ سَبَبُ التَّزْكِيَةِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَذَكَّرَ خَافَ وَرَجَا، فَتَزْكَى (مجموع الفتاوی لابن تیمیہ، جلد 16، صفحہ 186)۔ تزکیہ نفس دراصل یہ ہے کہ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنی کنڈیشنگ کو توڑا جائے۔ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) کی جائے۔ دراصل ڈی کنڈیشنگ ہی تزکیہ نفس کا پہلا دروازہ ہے۔ ہر آدمی کا کیس کنڈیشنگ کا کیس ہے۔ جب تک اس کنڈیشنگ کو توڑا نہ جائے، کسی شخص کے اندر تزکیہ نفس کا عمل (process) شروع نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ لوگ تزکیہ کا معروف کورس پورا کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر مطلوب تزکیہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے نام پر لوگ ورد اور تسبیح اور وظیفہ اور نفلی اعمال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان اعمال کے اندر کراماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں جو پر اسرار طور پر ان کا تزکیہ کر دیں گے، حالاں کہ اس طرح کے شکلی اعمال کا براہِ راست تعلق تزکیہ نفس سے نہیں ہے۔ تزکیہ حقیقتاً ایک شعوری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کسی فارم کی ظاہری ادائگی کا نتیجہ۔ خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا سوال و جواب تھا۔ یہاں جو سوالات کیے گئے، ان میں سے ایک سوال تھا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تزکیہ نفس کا تعلق کسی ظاہری فارم سے نہیں ہے، بلکہ تزکیہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب ایک صحابی کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابوالدرداء انصاری کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا خاص عبادتی عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: التَّفَكُّرُ، الاِعْتِبَارُ (السنن الکبری للنسائی، اثر نمبر 11850)۔ یعنی، سوچنا اور چیزوں سے عبرت پکڑنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader