Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی ہوں، حالاں کہ تصوف، اسلام میں ایک مبتدعانہ اضافہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں صوفی کا لفظ مروجہ معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ صوفی سے میری مراد وہی ہے جس کے لیے قرآن میں رہبانیت (3:79) کا لفظ آیا ہے۔ رہبانیت کی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، اور جہاں تک موجودہ تصوف کا تعلق ہے، وہ اسی رہبانیت کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تصوف کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے آپ میری کتاب ’’فکر اسلامی‘‘ (صفحہ 128) کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ 9 جون 2010 کو اگلا پروگرام دعاة سے ’’تبادلۂ خیال‘‘ کا تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا جو تین بجے سے چار بجے تک جاری رہا۔ یہ پروگرام سوال وجواب کی صورت میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقیدے سے ہے۔ مثلاً توحید اور آخرت، وغیرہ۔ اسی طرح کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق نظام سے ہے۔ مثلاً دیوانی اور فوج داری کے قوانین اور تعزیرات، وغیرہ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کے تعارف کا آغاز اسلام کی کس تعلیم سے کریں۔ میں نے کہا کہ اس سوال کا جواب سیرت نبوی میں موجود ہے۔ آپ نے مکہ میں نبوت کا آغاز کیا تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16603)۔ یعنی، اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤگے۔ اسی طرح قرآن کے جو حصے مکی دور میں نازل ہوئے تھے، آپ ان کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں آپ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ لوگوں سے مل کر اُن کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے : عَرَضَ عَلَيْهِمُ الإِسْلَامَ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ القُرْآنَ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 428)۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی حیثیت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک ثانوی (secondary) چیز (اُخری) کی حیثیت رکھتا ہے (الصف، 61:13)۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کو مطلوب اول کا درجہ حاصل نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page