جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
پروگرام کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ یہاں کئی علما اکٹھا ہو گئے اور دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں ایک بات میں نے یہ کہی کہ اسلام میں عقل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے اس سلسلے میں حاضرین کو ایک حدیث سنائی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : مَّا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا أَکْرَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ ( العقل و فضله لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 14 )۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کیں ، اُن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز عقل ہے۔ عجیب بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو غیر اہم قرار دے دیا اور ساری اہمیت عشق کو دے دی ، یہاں تک کہ ایک معروف مسلم شاعر نے کہا: عشق تمام مصطفیٰ ، عقل تمام بولہب یہ بلا شبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اس غلطی کا سبب غالباً یہ تھا کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو فلسفہ کی نسبت سے دیکھا۔ اگر وہ عقل کو سائنس کی نسبت سے دیکھتے تو وہ کبھی اس غلطی میں مبتلا نہ ہوتے۔ عقل ایک فطری صلاحیت کا نام ہے جو خدا کی ایک تخلیق ہے۔ اس کے مقابلے میں فلسفہ خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے ایک علم کا نام ہے ، جو صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ سائنس اور فلسفہ میں یہ فرق ہے کہ فلسفہ قیاسی منطق (sylogism) پر مبنی ہے، اور سائنس مکمل طور پر قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ سائنس میں اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ ناقص دریافت کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ خود ساختہ قیاس کی بنا پر۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت : اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَاباً مِنْ دُونِ اللَّهِ (9:31) کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس آیت کی وضاحت ایک مشہور روایت سے ہوتی ہے۔ عدی بن حاتم الطائی ( وفات : 68 ه ) پہلے نصرانی تھے۔ وہ بعد کو اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ تو انہوں نے کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار اور رہبان کو اپنا رب نہیں بنایا ، انہوں نے کبھی اپنے احبار اور رہبان کی عبادت نہیں کی ( وَاللَّهِ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ ) ، آپ نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader