Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

فرمایا کہ ہاں، اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا اور انہوں نے اس کو مان لیا۔ یہود و نصاریٰ کی یہی روش ان کے احبار ورہبان کی عبادت کے ہم معنی تھی: فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ (الطبقات الكبرىٰ لابن سعد، حدیث نمبر 291؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر (3095)_ قرآن کی مذکورہ آیت میں رب کا لفظ آیا ہے۔ یہ اس معاملے میں برائی کی شدت کو بتانے کے لیے ہے۔ انہوں نے جو کیا تھا، وہ یہ تھا کہ خدا اور رسول کے حوالے کے بجائے، اپنے احبار ورہبان کا حوالہ دے کر کسی چیز کو ترک کرتے یا کسی چیز کو اختیار کر لیتے۔ حدیث میں تحلیل حرام اور تحریم حلال کا لفظ بھی اسی معاملہ کی برائی کو بتانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے علما و مشائخ (احبار ورہبان) کو مستقل بالذات مرجع (reference) سمجھ لیا۔ میں نے اس مجلس میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں ایک ایسے گروہ (عصابہ) کا ذکر ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس گروہ کے لیے حدیث میں جہنم کے عذاب سے نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس حدیث میں ’’غزوہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175)۔ یہاں غزوہ سے مراد مسلح جنگ نہیں، بلکہ پُر امن دعوتی عمل ہے۔ اس کے تحت اقوام عالم کے درمیان تعارفِ اسلام کی اہمیت کو بیان کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ ’’عصابہ‘‘ کی نسبت سے جو بات میں نے کہی ہے، وہ کوئی فخر یا فضیلت یا اِدّعا کی بات نہیں ہے۔ اس عصابہ کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں نے جو بات کہی، اس کی حیثیت صرف ایک ذمے داری کی تشخیص کی ہے۔ اس تشخیص کا تقاضا ہے کہ آپ حضرات اب مزید یقین کے ساتھ اس عمل میں ہمہ تن سرگرمِ عمل ہو جائیں۔ 9 جون 2010 کے پروگرام کے بعد عصر کی نماز مسجد میں پڑھی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامعہ کے کلیہ ہال میں گئے۔ وہاں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا موضوع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page