جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا: آخرت رخی زندگی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ آخرت رخی زندگی کا فارمولا حدیث کے مطابق، یہ ہے: حَاسِبُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوْا، وَزِنُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوْزَنُوا (مسند الفاروق، جلد 2، صفحہ 618)۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے وہ زندگی جو مبنی بر حب عاجلہ (القیامۃ، 75:20) ہو، یعنی صرف آج کی بنیاد پر منصوبہ بندی۔ اور دوسری زندگی ہے مبنی بر آجلہ، یعنی حیات بعد الموت کو لے کر زندگی کا نقشہ بنانا۔ اس کے بعد میں نے رسول اور اصحاب رسول کے مختلف واقعات سنائے جو آخرت رخی زندگی کے معاملے میں عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخر میں ناظم اجتماع کی طرف سے لوگوں کو سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ چند منٹ تک کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور دیگر علما کے علاوہ مولانا کا کا سعید احمد عمری بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب اتنا زیادہ واضح اور فکر انگیز ہے کہ اس کے بعد کسی سوال کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ پروگرام سوال و جواب کے بغیر ختم ہوگیا۔ پروگرام کے بعد ہم لوگ جامعہ کے دفتر میں بیٹھ گئے اور مغرب تک وہاں غیر رسمی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔ انہوں نے کہا کہ—سادگی اور اسلام کا فطری تصور۔ میں نے کہا یہ اُس کا صرف ایک پہلو ہے۔ الرسالہ کا اصل مقصد ہے لوگوں کے اندر مثبت طرز فکر (positive thinking) پیدا کرنا، یعنی منفی حالات کے باوجود ہمیشہ مثبت ذہن کے تحت سوچنا۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اس قسم کی ذہنی بیداری لائی جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہی خلاصہ ایمان ہے۔ جنت میں وہی لوگ داخلہ پائیں گے جو اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ قرآن کے مطابق، جنت دار السلام (10:25) ہے۔ منفی ذہن کے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader