Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں صبر کے بارے میں بہت مضامین آتے ہیں۔ صبر کیا ہے۔ کیا صبر کا مطلب کمپرومائز (compromise) کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں، کمپرومائز الگ چیز ہے اور صبر الگ چیز۔ کمپرومائز، مصلحت (expediency) کے تحت ہوتا ہے، جب کہ صبر حکیمانہ منصوبہ بندی کا نام ہے۔ 10 جون 2010 کو صبح کی نماز کے بعد ہم لوگوں نے کچھ دیر تک جامعہ کے کیمپس میں واک کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ کا کا فیملی کے ایک فرد جناب کا کا حامد صاحب کی رہائش گاہ پر گئے ۔ میں نے پیشگی طور پر کہہ دیا تھا کہ وہاں صرف چائے ہوگی، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ چنانچہ اس کے مطابق عمل کیا گیا۔ یہ ایک غیر رسمی نشست تھی۔ اس میں مولانا کا کا سعید احمد عمری کے علاوہ تقریباً پندرہ علما شریک تھے۔ اس مجلس میں تقریباً ایک گھنٹے تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، عالم اور غیر عالم، عرب اور غیر عرب سب ایک مشترک برائی میں مبتلا ہیں اور وہ منفی سوچ (negative thinking) ہے۔ منفی سوچ ایک قاتل سوچ ہے۔ وہ آدمی کی دنیا کو بھی تباہ کرتی ہے اور آخرت کو بھی تباہ کردیتی ہے۔ منفی سوچ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی فیضانِ خداوندی (divine inspiration) سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں قلبِ سلیم (26:89) کہا گیا ہے۔ منفی سوچ کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ ایسا آدمی آخرت کی اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے محروم قرار پاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سخت محتاط رہے اور کسی بھی عذر کی بنا پر وہ ادنیٰ درجے میں منفی سوچ کا شکار نہ ہو۔ ہر دوسرا نقصان بلا شبہ منفی سوچ میں مبتلا ہونے سے کم ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ علمائے سلف پر علمی تنقید تو علمائے راسخین کے درمیان جاری رہی ہے، لیکن مجھے آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علمائے سلف کا اعتراف نہیں کرتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page