جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے زیادہ اسلاف کا اعتراف کرتا ہوں۔ آپ لوگ تو صرف فضائل بیان کرتے ہیں۔ میں نے خاص علمی اور تاریخی اعتبار سے اسلاف کے رول کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کا میں بہت زیادہ اعتراف کرتا ہوں۔ یہ پہلو ہے ۔ علوم اسلامی کی تدوین ، دینی علم کا تسلسل بعد کی نسلوں میں جاری رکھنا، مصادرِ شریعت کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنا ، وغیرہ۔ یہ سب کام بلاشبہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا کام ہے۔ اس کام کی اہمیت اس موازنہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے علما اور محققین دوسرے مذاہب میں پیدا نہیں ہوئے۔ چنانچہ دوسرے مذاہب اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ ہمارے اسلاف کا کارنامہ ہے کہ دین اسلام آج پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید حالات تقریباً تین سو سال سے دنیا میں موجود ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اس دور کے علما نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غلط اقدامات کرکے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو شدید نقصان میں مبتلا کر دیا۔ اس مجلس میں اور بعض دوسری مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ کا کا فیملی کے کئی افراد وہاں شریک تھے، لیکن ان کے اندر میں یہ انوکھی صفت پائی کہ جب کوئی سینئر شخص بولتا تھا تو فیملی کے تمام جونیئر ممبران خاموش رہ کر اس کی بات سنتے تھے۔ یہ قدیم روایت (tradition) کا کا فیملی میں اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ کا کا حامد صاحب کے یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ کمرے میں آگئے۔ یہاں صبح کا سادہ ناشتہ کیا گیا۔ یہ ناشتہ وہی تھا جو یہاں طلبا کو روزانہ دیا جاتا ہے۔ ناشتے کے وقت ہمارے ساتھ کئی علما اور دُعاۃ موجود تھے۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader