جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ مشن سے علما بہت کم جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ علما اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اب تک الرسالہ مشن سے بہت کم جڑ سکے تھے، مگر اب خدا کے فضل سے انڈیا اور انڈیا کے باہر کے مختلف مدارس اور مکاتب فکر کے سنجیدہ علما بڑی تعداد میں الرسالہ مشن سے جڑ گئے ہیں۔ اپریل 2010 میں الرسالہ مشن کی طرف سے دہلی میں جو دعوتہ میٹ (Dawah Meet) ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والے صرف علما کی تعداد تقریباً 25 تھی۔ میں نے کہا کہ ذاتی ملاقاتوں، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ علما کے درمیان الرسالہ اور اس کے تحت تیار کردہ لٹریچر بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ خاص طور پر علما کے درمیان الرسالہ مشن کو متعارف کرنے میں میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کا بہت بڑا رول ہے۔ وہ ایک سنجیدہ اور معتدل مزاج کے آدمی ہیں۔ علما سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے خاموش پلاننگ کے ذریعے علما کے تقریباً تمام حلقوں تک الرسالہ مشن کے دعوتی پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ جامعہ دارالسلام کا یہ پروگرام بھی انھیں کی بالواسطہ کوششوں کے ذریعہ ممکن ہو سکا ہے۔ 10 جون 2010 کی صبح کو دس بجے سے بارہ بجے تک لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا: عصری اسلوب میں سیرت رسول کا تعارف۔ اس پروگرام میں علما اور دعاۃ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ میں نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کا ایک ہی ابدی مشن ہے، اور وہ دعوت ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے اس میں جو فرق ہوتا ہے، وہ صرف طرز خطاب اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ خود مشن کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام کا مشن اول بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ حجۃ الوداع کے بعد اصحاب رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader