جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ دعوتِ الیٰ اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کر دیا جائے اور پھر اس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مر جاتے ہیں۔ اس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آ جاتی ہے۔ اس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تا کہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (60: 8) آیا ہے۔ اس میں اعد ادقوت سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اس کا معیار بتا دیا گیا ہے، اور وہ اِرھاب ہے، یعنی وہ قوت فراہم کرو جو فریقِ ثانی کے نزدیک قوتِ مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جنگی ہتھیار کی حیثیت قوتِ مرہبہ کی نہیں ہے، بلکہ سائنسی علوم کو یہ حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں امریکا اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا کے پاس ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنے کے باوجود وہ ویت نام، عراق، افغانستان، وغیرہ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ایک سوال قرآن کی اس آیت کے بارے میں تھا: أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) ۔ میں نے کہا کہ اس آیت سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ کسی فریق کے ساتھ ظلم کا واقعہ ہو تو اہلِ اسلام کے لیے جنگ جائز ہو جاتی ہے، مگر یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔ یہ مدنی آیت ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکی دور میں افراد کے ساتھ بار بار ظلم کیا گیا، لیکن اُس وقت یہ آیت نہیں اتری۔ یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں اتری۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اِس آیت میں ظلم سے مراد انفرادی ظلم نہیں ہے، بلکہ فوجی حملہ ہے، یعنی ایک بیرونی حکومت کا مسلم حکومت پر باقاعدہ فوج کے ذریعے حملہ آور ہونا۔ اس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ جب فوج کے ذریعے اس قسم کا جارحانہ حملہ کیا جائے تو اُس وقت بھی صرف حکومت کو دفاعی جنگ (defensive war) کی اجازت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader