جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوگی۔ غیر حکومتی افراد اور تنظیموں (NGOs) کو اُس وقت بھی مسلح جنگی کارروائی کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ موجودہ زمانے کے علما، عرب اور غیر عرب دونوں نے، جو شدید ترین غلطی کی ہے، وہ یہ کہ انہوں نے ظلم کے نام پر غیر حکومتی عسکریت ( non-governmental militancy) کو شرعی اعتبار سے جائز قرار دیا۔ بلاشبہ یہ ایک مہلک غلطی تھی۔ مجھے اس معاملے میں کسی عرب یا غیر عرب عالم کا استثنا نظر نہیں آتا۔ ہمارے یہاں سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ شائع کیا گیا ہے، اس کی بابت پروگرام کے آخر میں جناب ریاض موسیٰ صاحب نے بتایا کہ میں نے انگریزی جاننے والے افراد کی ایک ٹیم کو یہ ترجمہ دیا۔ اور میں نے کہا کہ دوسرے انگریزی تراجم سے اس کا تقابل کرنے کے بعد مجھ کو بتائیے کہ کون سا ترجمہ سب سے زیادہ واضح اور عصری زبان میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ تقابل کرنے کے بعد ان لوگوں نے متفقہ طور پر کہا کہ صرف گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہونے والا انگریزی ترجمہ اِس معیار پر پورا اُترتا ہے۔ اس میں پوری طرح وضوح (clarity) ہے، اور اِسی کے ساتھ وہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس کو ڈکشنری کی مدد کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی تراجم میں سب سے زیادہ قابل فہم ترجمہ ڈاکٹر بشیر محی الدین (افریقہ) کا ترجمہ مانا جاتا ہے، لیکن گڈ ورڈ سے شائع ہونے والا ترجمہ اس سے بھی زیادہ واضح اور قابل فہم ہے۔ 10 جون 2010 کو ظہر کی نماز کے بعد خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے کلیہ ہال میں کیا گیا۔ اِس میں دعاة اور طلبا کے علاوہ، جامعہ کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا: سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے۔ اِس موضوع پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کی ایک تقرری کی۔ اِس تقریر کا خلاصہ یہاں مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ تحریک (movement) ایک ایسا عمل ہے جو ایک شخص یا گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کے مقابلے میں برپا ہوتا ہے۔ اِس طرح کسی تحریک کے تقاضے دو طرفہ ہوجاتے ہیں، یعنی ایک طرف داعی کی نسبت سے اور دوسری طرف مدعو کی نسبت سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader