Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ نماز خود اپنے فیصلے کے تحت پڑھ سکتے ہیں، لیکن تحریک کی کامیابی اس میں ہے کہ آپ دوسروں کو بھی بخوبی طور پر جانیں اور دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اس کا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی مسلم تحریکیں اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہو گئیں ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں کے چلانے والے صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، دوسروں کے بارے میں وہ پوری طرح بے خبر تھے۔ میں نے جہاں تک سیرت رسول کا مطالعہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں پیغمبر اسلام ﷺ کے طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم ( positive statusquoism ) کہا جا سکتا ہے، یعنی دوسروں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے انتہائی حد تک غیر نزاعی انداز میں اپنا کام کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی اس حکیمانہ پالیسی کا اعتراف برطانی مستشرق ای ای کلیٹ ( EE Kellett ) نے اپنے الفاظ میں اس طرح کیا ہے ــ انہوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں : He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32) سیرت رسول کے اس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے ۔ پروگرام کے بعد حاضرین کو سوال و جواب کا وقت دیا گیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چنانچہ جلسے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے اس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرت رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کا کا صاحب نے جامعہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اس پورے خطاب کو جامعہ کے ترجمان ماہ نامہ ”راہ اعتدال“ میں شامل کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page