جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
پروگرام کے خاتمہ پر ہم لوگ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں گئے ۔ مسجد کافی کشادہ ، مگر نہایت سادہ تھی۔ مسجد کی دیواروں پر اُس قِسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طور پر سادہ اور مکمل طور پر سکون تھی۔ طلباکے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔ نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر آگئے ۔ یہاں لائبریری کے باہری ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکٹھا تھے۔ مثلاً وائمہ باڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدرآباد، وغیرہ ۔ ان لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میں نے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لیے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے ۔ یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔ ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے : اِتَّقُوا فِرَاسَةَ المُؤْمِنِ، فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی ، مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، سچا ایمان آدمی کے اندر ایک ربانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کی منصوبہ بندی کے مقابلے میں، دوسرے لوگ دفاعی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ اس کے برعکس ، اگر ایسا ہو کہ مسلمان دوسروں کے خلاف شاک کی بنے ہوئے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ فراست ایمانی سے محروم ہیں۔ اس لیے ایسا ہوا ہے کہ اُن کے مقابلے میں ، دوسروں کو بالا دستی حاصل ہو گئی ہے۔ بنگلور کے حلقہ الرسالہ کے تقریباً 15 لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader