Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت اور آخرت کے موضوع سے متعلق کچھ باتیں کہیں جس کو سن کر وہ رونے لگے۔ انہوں نے مجھ سے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو صرف ایک نصیحت کروں گا۔ وہ یہ کہ آپ آج سے اس بات کا فیصلہ کر لیں کہ آپ کو اپنے اندر ’’قلبِ سلیم‘‘ پیدا کرنا ہے اور اسی حال میں آپ کو جینا اور اسی حال میں مر جانا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی کی نصیحت ہے جو قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آپ کو یہ نصیحت کر رہا ہے۔ جامعہ کے ایک استاد حافظ شیخ کلیم اللہ عمری مدنی ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے اپنے چند کتابچے برائے مطالعہ پیش کیے۔ مثلاً محبتِ الہی کے ذرائع اور اخلاقیات، وغیرہ۔ اس موقع پر جامعہ کے ایک نو جوان اور سنجیدہ استاذ مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری نے اپنی کتاب ’’انتہا پسندی اور اسلام‘‘ مطالعے کے لیے دی۔ یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ وہ 216 صفحات پر مشتمل ہے۔ 10 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ مولانا ڈاکٹر سعید احمد عمری ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے علمی انحطاط کا سبب کیا ہے، جب کہ ماضی میں وہ علمی ترقی کے اعتبار سے ممتاز مقام پر پہنچ گئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب ہم مسلمان یا ملتِ مسلمہ کا لفظ بولتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم اس کو ایک تسلسل کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ معاملہ سادہ طور پر مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی دو مختلف نسلوں کا معاملہ ہے، یعنی دورِ عروج کی مسلم نسلیں اور دورِ زوال کی مسلم نسلیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا علمی زوال ان کے اپنے نسلی زوال کا نتیجہ ہے، اور دورِ زوال میں یہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ مطالعہ قرآن کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بہت سے اصول علما نے لکھے ہیں، لیکن میرے اپنے تجربے کے مطابق، سب سے بڑا اصول دعا ہے۔ اس سلسلے میں مجھ کو امام ابن تیمیہ کا طریقہ بہت پسند ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ ایک آیت کو سمجھنے کے لیے میں نے سو سو تفسیروں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعہ کے بعد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page