جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالیٰ سے آیت کے فہم کی دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں: یا مُعَلِّمَ إِبْرَاہِيمَ عَلَّمْنِی (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد 4، صفحہ 198)۔ یعنی، اے ابراہیم سکھانے والے مجھے بھی سکھا۔ میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا گویا کہ کسی کتاب کو سمجھنے کے لیے اس کے مصنف سے کنسلٹ کرنا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ہر لمحہ اس کے مصنف سے کنسلٹ کر سکتے ہیں۔ اس کوسن کر ڈاکٹر سعید احمد عمری نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے لیے آج شاہ کلید ہاتھ آگئی۔ اس مجلس میں دوسرے کئی علما موجود تھے۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ امام ابن تیمیہ کی یہ بات ہم بہت پہلے سے جانتے تھے، لیکن آج آپ کی زبان سے اس کی اثر انگیز تفصیل سن کر اس کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلم تاریخ جو بعد کو لکھی گئی، وہ زیادہ تر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے ہم معنی بن گئی ہے۔ مسلم سرگرمیوں کے دوسرے پہلو مثلاً دعوت و تبلیغ کے تفصیلی واقعات اس میں شامل نہ ہو سکے۔ اب اس کمی کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے۔ میں نے کہا کہ بظاہر اب اس کی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ تاریخ (history) ناول کی طرح محض اپنے ذہن سے نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری معلومات (data) درکار ہے جو کہ عملاً موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اس ضرورت کا احساس بہت پہلے عبد الرحمن بن خلدون (وفات 1406ء) کو ہوا تھا۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے: اِنْعِبَرُ وَدِیْوَانُ اِلْمَبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ فِی تَارِیخِ الْعَرَبِ وَالْعُجْمِ وَالْبَرْبَرِ۔ لیکن خود ابن خلدون اپنی اِس تاریخ کو اُن اصولوں کے مطابق، تیار نہ کر سکے جس کو انہوں نے اپنے ’’مقدمہ‘‘ میں تحریر کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مقدمہ تو وہ اپنے ذہن سے لکھ سکتے تھے، لیکن ایک نئی تاریخ لکھنے کے لیے بنیادی معلومات (data) کی ضرورت تھی اور وہ موجود نہ تھیں۔ اب اگر کوئی شخص بہت زیادہ محنت کرے تو وہ مختلف ماخذ سے اس نوعیت کی کچھ معلومات حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ معلومات اتنی زیادہ نہ ہوں گی کہ پوری تاریخ از سرِ نو لکھی جاسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader