Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

پوری مسلم تاریخ کو اب از سر نو مرتب کرنا تو ممکن نہیں، لیکن میری یہ تمنا ہے کہ سیرت رسول کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کروں۔ اگر ایک پوری ٹیم کے ساتھ احادیث رسول کا اور دوسرے متعلقہ ذخائر کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو امید ہے کہ سیرت کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کی جاسکتی ہے۔ سیرت کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں، جب کہ سیرت کے موضوع پر صحیح کتاب وہ ہے جو دعوتی پیٹرن پر لکھی جائے۔ میں نے جزئی طور پر یہ کام کیا ہے، لیکن کلی طور پر اس کام کو انجام دینا ابھی باقی ہے۔ آخر میں میں نے اپنی دو کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد عمری کو بطور تحفہ پیش کیں ـــ اللہ اکبر، پیغمبر انقلاب۔ اس کے بعد مغرب کی نماز لائبریری ہال میں جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ نماز میں تقریباً 15 علما موجود تھے۔ اس نماز کی امامت میرے ساتھی مولانا حافظ محمد ذکوان ندوی نے کی۔ مغرب کے بعد میری قیام گاہ پر کئی علما آگئے ۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بار بار استغفار کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق 70 بار، بعض روایات کے مطابق، 100 بار اور بعض روایات کے مطابق ، اس سے بھی زیادہ بار آپ استغفار فرماتے تھے۔ شارحین حدیث نے اس کی تاویل میں لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ یہ عجز کا ظاہر تھا ۔ عجز کی دریافت بلاشبہ کسی مومن کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ خدا کے تمام پیغمبر اس معاملے میں کمال کے درجے پر تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر احساس نبوت میں نہیں جیتا، بلکہ وہ احساس عبدیت میں جیتا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی انسان کے پاس جو سب سے بڑا سرما یہ ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ عجز ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ جامعہ کی مسجد میں گئے اور وہاں عشاء کی نماز باجماعت ادا کی۔ باہر ہلکی بارش ہو رہی تھی، اس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے ۔ یہاں دوبارہ کچھ طلبا اور اساتذہ اکٹھا ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page