جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا سید اقبال عمری نے جامعہ دارالسلام کے متعدد اساتذہ سے الرسالة مشن کے بارے میں ان کے تاثرات معلوم کیے، جو اُنھیں کے الفاظ میں یہاں مختصر نقل کیے جاتے ہیں: 1۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میرے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ مجھے ان کی مختلف تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ ان تحریروں میں اسلام اور متعلقاتِ اسلام پر ان کے جدید اندازِ تعبیر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس طرح مجھ کو مولانا سے ایک قلبی اور روحانی تعلق پیدا ہو گیا۔ جامعہ کے جشن طلائی کے موقع پر جب مولانا یہاں آئے تو اپنے دلی تعلق کی وجہ سے میں نے مولانا کو دوسرے مہمانوں کے ساتھ ٹھہرانے کے بجائے اپنے خاص کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ میں مولانا کی تحریروں کا شائق تھا۔ چنانچہ جب مولانا کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا اشتہار دیکھا تو اس کے نسخے منگوائے۔ خود بھی پڑھا اور کچھ دوسرے احباب کو بھی پڑھنے کے لیے دیا۔ جہاں تک مولانا سے متاثر ہونے کا سوال ہے، یہاں خلاصہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سے میں بہت متاثر ہوں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر میں منفرد ہیں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر کے موجد بھی ہیں اور متبع بھی۔ مولانا کا علم بہت گہرا ہے۔ اسلام کی تعبیر کا جو خاص ملکہ ان کو حاصل ہے، وہ منفرد اور قابلِ مطالعہ ہے۔ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ ابھی وہ میرے گھر آتا ہے۔ مولانا کے علمی استدلال کے انداز سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ اس سے علمی استفادہ کرنے سے دور رہیں‘‘۔ (حضرت مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی، سابق شیخ الحدیث، جامعہ دارالسلام، عمر آباد) 2۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو وقت کی زبان اور اسلوب میں پیش کرنا، ایک کامیاب طریقہ ہے۔ جو لوگ مولانا کے لٹریچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یا براہِ راست ان سے استفادہ کر رہے ہیں، اس کے مطابق، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو پیش کرنے کا یہ طریقہ زیادہ مناسب بھی ہے اور مستحسن بھی۔ میں الرسالہ دیکھتا ہوں۔ تذکیر القرآن کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔ آئندہ اس کو بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا ارادہ ہے۔ مولانا کے پاس وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔‘‘ (حضرت مولانا سید عبدالکبیر عمری، شیخ التفسیر، جامعہ دارالسلام، عمر آباد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader