جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
3 ۔ ”مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں میں میری سب سے پسندیدہ کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ ہے۔ اس میں مولانا نے اسلامی عقائد کو عصری دلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ دورِ طالب علمی ہی سے الرسالہ میرے مطالعہ میں رہا ہے، اس کا اسلوب مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ معمولی واقعات کے اندر ہمارے لیے کیسے اسباق موجود ہیں۔ یہ درحقیقت قرآنی اسلوب ہے جو ایک مومن کو فراستِ ایمانی کے نتیجے میں ملتا ہے۔ مولانا سے ملنے کی خواہش بہت دنوں سے تھی ، مگر اس کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ جامعہ آمد پر مولانا سے ملنے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور مولانا سے براہِ راست سننے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مولانا نے بڑی محبت سے ملاقات کی اور میری قدر افزائی فرمائی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل میں اہلِ علم کے لیے بڑی قدر ہے۔ میں نے مولانا سے چند سوالات کیے۔ مولانا نے بڑی جامعیت کے ساتھ ان کا مختصر مگر بھر پور جواب دیا۔ جو مولانا کے وسیع مطالعہ کے علاوہ ان کے ذاتی غور و فکر کی دین ہے۔ اس کے علاوہ ، مولانا نے اپنا مثبت نقطہ نظر ہر جگہ ملحوظ رکھا۔ ایسا عام طور سے نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین کے سلسلے میں مولانا کو میں نے بڑا فکرمند پایا۔ مولانا اسلام کے پیغام امن و سلامتی کو بہت زیادہ واضح کرنے کے داعی ہیں، تاکہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا جا سکے ۔ مولانا کی گفتگو و تحریر میں جدید تحقیقات کے حوالے کا رنگ غالب ہے۔ وہ دینی حقائق اور جدید علمی حقائق میں ہم آہنگی ثابت کرنا چاہتے ہیں“۔ (مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری، استاذ تفسیر و ادب عربی ، جامعہ دار السلام، عمر آباد) 11 جون 2010 کو ہماری واپسی تھی۔ فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں کے دستور کے مطابق، نماز کے بعد تمام طلباکرآن کی تلاوت کے لیے مسجد میں بیٹھ گئے ۔ چوں کہ مجھے آج صبح کو روانہ ہونا تھا ، اس لیے تلاوت کو تھوڑی دیر تک ملتوی کر کے مجھے خطاب کے لیے کہا گیا۔ سامعین میں طلباب اور اساتذہ دونوں موجود تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ، ان میں سے کچھ باتیں یہ تھیں۔ میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader