Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ دنیا میں کہیں بھی جائیے، ہر جگہ آپ کو مسجدیں اور مدرسے دکھائی دیں گے۔ مسجدیں عبادت کے مرکز کے طور پر، اور مدرسے تعلیم کے مرکز کے طور پر۔ یہ مسجد اور مدرسے گویا کہ اسلام کا گلوبل انفراسٹرکچر (global infrastructure) ہیں۔ ان دینی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام نے تاریخ میں اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آج ہم کسی روک ٹوک کے بغیر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور مدارس میں ہماری اگلی نسلوں کے لیے تعلیم دین کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک نہایت عظیم بات ہے جس کے لیے ہمارا سینہ شکر سے معمور ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں دربارِ فرعون کے رجل مومن کے بارے میں آیا ہے: یَکْتُمُ إیمَانَہُ (40:28)۔ یعنی، وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔ یہ ایک شخص کی بات نہیں، بلکہ ایک دور کی بات ہے۔ قدیم زمانہ کتمانِ ایمان کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ اظہارِ ایمان کا زمانہ ہے۔ یہ آزادیِ اصحاب رسول کے ذریعے لائے ہوئے انقلاب کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ آپ اس پر غور کریں تو آپ کے سینے میں شکر کا دریا جاری ہو جائے گا۔ اگر آپ اس انقلابی تبدیلی پر غور کریں تو شکایت کا کوئی شائبہ بھی آپ کے دل میں باقی نہ رہے گا۔ اس کے بعد میں نے خصوصی طور پر طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دینے اور لینے (give and take) کی دنیا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ۔ جتنا دینا، اتنا پانا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دنیا کی مختلف سرگرمیوں میں داخل ہوں گے۔ آپ صرف ایک چیز کو اپنے سامنے رکھیے، اور وہ امتیاز (excellence) ہے۔ آپ جو کام بھی کریں، ممتاز طور پر کریں، حتی کہ اگر آپ موذن نہیں تو سب سے اچھی اذان دینے والے موذن بنیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے - قِیْمَةُ الْمَرْءِ مَا يُحْسِنُهُ : The value of a person lies in excellence.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page