علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
نماز کے بعد ہم لوگ لائبریری کے کمرے میں واپس آگئے۔ یہاں معتمد جامعہ مولانا کاکا سعید احمد عمری اور دوسرے اساتذہ آخری ملاقات کے لیے آگئے ۔ یہاں صبح کی چائے پینے کے بعد مدراس کے لیے روانگی ہوئی۔ دوپہر کے وقت ہم لوگ مدراس ائیرپورٹ پر پہنچے ۔ ائیر پورٹ کی نئی تعمیر کی جارہی ہے ۔ چنانچہ یہاں تعمیرات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ ہم لوگ ائر پورٹ پر کچھ دیر بیٹھے ۔ یہاں ائیرپورٹ کے عملہ کے ایک ساتھی محمد آزاد صاحب ہم لوگوں کا ای ٹکٹ لے کر گئے اور انہوں نے ہمارا بورڈنگ پاس بنوا کر ہمیں دے دیا۔ ہم لوگ 11 جون 2010 کی دوپہر کو دو بجے جہاز کے اندر داخل ہوئے ۔ شام کو ہم لوگ دہلی کے ائیرپورٹ پر اترے، اور بذریعہ کار نظام الدین اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ اسلامی تمنا جامعہ دارالاسلام کے ایک طالب علم سے جون 2000 میں ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ مجھے سعودی عرب میں کوئی کام مل جائے اور وہاں میں بیت اللہ (مکہ) کے پڑوس میں رہوں ۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی صحیح تمنا نہیں۔ اگر یہ صحیح اسلامی تمنا ہوتی تو فتح مکہ کے بعد سارے صحابہ آ کر مکہ میں آباد ہوجاتے اور یہیں ان کی قبریں بنتیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے مکہ میں صحابہ کی بہت کم قبریں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں فرمایا تھا کہ میں ساری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس لیے تم لوگ مختلف ملکوں میں جاؤ اور وہاں کے لوگوں کو میرا لایا ہوا دین پہنچاؤ۔ اس کے بعد وہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے اور دعوتی عمل میں اپنی تمام عمر پوری کر دی ۔ (ڈائری ، 11 جون 2000)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader