مدرسہ صدیقیہ کا سفر
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
مدرسہ صدیقیہ کا سفر مدرسہ صدیقیہ، سرسیا (چمپارتن) کی دعوت پر بہار کا سفر ہوا۔ 25 مئی 2000 کو میں دہلی سے پٹنہ پہنچا اور 27 مئی 2000 کو دہلی واپسی ہوئی۔ اس سفر میں بہت سے تجربات ومشاہدات پیش آئے ان کا مختصر حال یہاں لکھا جاتا ہے۔ پٹنہ ایئر پورٹ پر میں اترا تو وہاں مولانا عبد الرحیم امدادی، مسٹر ایم ٹی خان، مولانا بدر الدین قاسمی، وغیرہ موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر پہلے مسٹر ایم ٹی خان کی رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچا۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا اور لوگوں سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ مسٹر ایم ٹی خان ہائی کورٹ میں ایک اچھے عہدہ پر ہیں۔ اپنے عہدہ کے لحاظ سے ان کو موجودہ مکان سے زیادہ بڑا سرکاری مکان مل رہا تھا مگر ان کے ہندو پڑوسیوں نے سخت اصرار کیا کہ وہ یہیں رہیں، وہ دوسرے مکان میں نہ جائیں ۔ چنانچہ انہوں نے موجودہ مکان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ 26 مئی 2000 کی صبح کو ہمارا قافلہ ہوٹل سے روانہ ہو کر بتیا کے یتیم خانہ میں پہنچا۔ یہ یتیم خانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک، لڑکوں کے لیے، اور دوسرا، لڑکیوں کے لیے۔ یتیم خانہ نہایت وسیع رقبہ میں قائم ہے اور تعمیر وغیرہ کے لحاظ سے کافی شاندار ہے۔ یتیم خانہ کے رجسٹر پر میں نے جو الفاظ لکھے وہ یہاں نقل کیے جاتے ہیں: 25 مئی 2000 کو بتیا کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اس کو اپنی امیدوں سے زیادہ پایا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔ کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں۔ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader