مدرسہ صدیقیہ کا سفر
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لیے وہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ پوری تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لیے اور کیا چیز ملنی چاہیے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے۔ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوَى (الضحی، 6: 93)۔ یعنی، اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے ایک ماویٰ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ یتیموں کو ماویٰ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبہ خداوندی سمجھتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بتیا کے اس یتیم خانہ کو حقیقی معنوں میں یتیموں کا ماویٰ بنائے اور اس کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔ یتیم خانہ کے ایک طالب علم فصیح اختر (17 سال) نے ایک نعت سنائی۔ غالباً یتیم (orphanhood) نے ان کی آواز کو کافی پر اثر بنا دیا تھا۔ اس نعت کا ایک شعر یہ تھا: پتھر کا کلیجہ بھی شق ہو فولاد بھی پانی پانی ہو اتنا ہے کلام رب میں اثر جو تم کو اثر معلوم نہیں یہ یتیم خانہ 1928 سے قائم ہے۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچپن میں میں یتیم ہو گیا تھا۔ میرے رشتہ داروں نے مجھے اس یتیم خانہ میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے اس یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر خود کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیر و بنا دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader