Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ صدیقیہ کا سفر

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

بتیا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جن کی عمر 30 سال تھی۔ ان کے والدین کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا۔ رشتہ داروں نے ان سے بڑی بے رحی برتی۔ حتیٰ کہ ان کو ایک معمولی مدرسہ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ ان کا ابتدائی زمانہ تکلیفوں اور مصیبتوں میں گزرا۔ بے عزتی اس کے علاوہ تھی۔ اس کے بعد وہ کسی طرح بمبئی پہنچ گئے وہاں انہوں نے محنت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اب وہ ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ بچپن میں وہ بے سہارا اور یتیم تھے۔ اب وہ پورے معنوں میں ایک سلف میڈ مین (self-made man) ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ان کے سینہ میں لوگوں کے خلاف سخت شکایات ہیں۔ ان کا سینہ ماضی کی تلخ یادوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے ان سے نصیحت کے طور پر دو باتیں کہیں۔ ایک بات یہ کہ یاد رکھئے، سب سے بڑی عبادت اللہ کا شکر ہے۔ شکر بے حد لطیف چیز ہے۔ شکر اور نفرت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی شکر جیسی افضل عبادت کا انعام لینا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے سینہ کو نفرت سے مکمل طور پر پاک رکھے۔ گندے برتن میں آپ دودھ رکھیں تو دودھ خراب ہو جائے گا۔ اسی طرح نفرت اور انتقام سے بھرے ہوئے سینہ میں شکر جیسے نورانی جذبہ کا جگہ پانا ممکن نہیں۔ دوسری بات ان سے میں نے یہ کہی کہ جن لوگوں نے آپ کو بچپن میں بے سہارا چھوڑ دیا، دراصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو ترقی تک پہنچایا۔ فطرت کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو بے سہارا پائے اس کے اندر عمل کا بے پناہ جذبہ ابھر آتا ہے۔ زندگی کی مشکلات کسی انسان کے لیے مہمیز کا حکم رکھتی ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے درجہ تک وہی پہنچتا ہے جس کو زندگی میں جھٹکے لگتے ہیں، یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہے۔ یعنی زحمت میں رحمت۔ مولانا قاری بدرالدین قاسمی (29 سال) آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ ان سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ اعلان حق کوئی مطلق چیز نہیں۔ اگر اعلان حق کوئی مطلق چیز ہوتی تو حدیث میں یہ نہ ہوتا کہ: مَنْ صَمَتَ نَجَا (مسند احمد، حدیث نمبر 6481)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page