مدرسہ صدیقیہ کا سفر
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی، جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ انہوں نے کہا کہ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ (مسند احمد، حدیث نمبر 11460)۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کو سمجھنے میں عام طور پر سخت غلطی کی جاتی ہے۔ اس حدیث میں استطاعت کی شرط لگی ہوئی ہے۔ استطاعت کا مطلب اقدام کی استطاعت نہیں ہے، بلکہ نتیجہ کی استطاعت ہے۔ یعنی عملی اقدام یا لسانی اقدام کر کے اگر مطلوب نتیجہ برآمد کرنا اپنے بس میں ہو تو اقدام کیا جائے گا ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی۔ اور صرف دعا پر اکتفا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہم لوگ ساٹھی پہنچے۔ یہاں مدرسہ ریاض العلوم واقع ہے۔ وہ 1946 میں قائم ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ایک بڑا تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔ اس میں لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ریاض العلوم کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد مسجد میں اجتماع ہوا۔ وسیع مسجد پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ ریاض العلوم کی مسجد کی تقریر میں میں نے دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس دینیہ کے کردار پر خطاب کیا۔ یہ ایک تفصیلی خطاب تھا اس خطاب میں دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس ملک میں مدارس کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ مدارس کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ مدارس کے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس قسم کی مخالفانہ کوششیں ہر چیز کے خلاف اور ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں۔ قرآن کے بیان کے مطابق ، یہ دنیا عداوتوں کی دنیا ہے۔ ہمیں عداوتوں کے ماحول میں جینا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہم منفی ردعمل سے بچیں اور مثبت رد عمل کے ذریعہ ان حالات کا خاموش مقابلہ کریں۔ میں نے کہا، صحیح البخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی، خدا پر امن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ منفی رد عمل پر نہیں دیتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader