مدرسہ صدیقیہ کا سفر
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث میں یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مسائل کا مقابلہ اگر تشدد کے انداز میں کیا جائے تو صرف ناکامی ہمارے حصے میں آئے گی۔ اس کے برعکس، اگر مسائل کا مقابلہ نرمی اور امن کے اسلوب میں کیا جائے تو کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ جمعہ کے پروگرام کے بعد ریاض العلوم میں پریس کانفرنس تھی اس میں ”دی نک جاگرن“، ”ہندوستان“ اور دوسرے اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ سوال و جواب کی صورت میں یہ کانفرنس دیر تک چلتی رہی۔ ایک ہندو اخبارنویس نے کہا کہ سارے مذہبوں کو ایک کیسے بنایا جائے۔ کیوں کہ جب تک سارے مذاہب ایک نہ ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اتحاد کا کوئی تعلق مذہبوں کو ایک کرنے سے نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے درمیان آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کورو اور پانڈو دونوں کا مذہب ایک تھا۔ اس کے باوجود دونوں میں خونیں جنگ ہوئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں ہونے والی دو عالمی جنگوں میں دونوں فریق ایک ہی مذہب کو ماننے والے تھے۔ حال کی خلیجی جنگ دو ہم مذہب لوگوں کے درمیان ہوئی، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اتحاد کا راز ٹالرنس ہے۔ اگر آپ کو ملک میں اتحاد لانا ہے تو مذہبوں کو بے فائدہ طور پر ایک کرنے کی بات نہ کیجیے۔ بلکہ لوگوں کو اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنے کا سبق دیجیے۔ لوگوں سے کہئے کہ فرق و اختلاف فطرت کا لازمی حصہ ہے۔ دوسرے معاملات میں ایسا ہے کہ لوگ فرق اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کے اصول پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول مذہب کے دائرہ میں بھی کارآمد ہے۔ ریاض العلوم ساٹھی میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہا۔ ایک صاحب جو میرے ساتھ سفر میں شریک تھے، وہ شہری زندگی کے عادی ہیں۔ ہمارا سفر زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں ہوا، جہاں اونچے نیچے راستے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader