مدرسہ صدیقیہ کا سفر
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم کو طرح طرح کے پر مشقت معاملات سے سابقہ پیش آیا۔ اس تجربہ سے وہ کچھ گھبرا گئے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سفر کے اس تجربہ کو پر تاسف (deplorable) قرار دیا۔ میں نے کہا کہ اسلام نام ہے ہر واقعہ سے مثبت اثر لینے کا۔ مثلاً یہ تکلیف دہ تجربات جو ہمارے ساتھ گزر رہے ہیں، اس سے ہم کو شکر کی غذا لینا چاہیے۔ کیوں کہ یہ ہمارے لیے صرف ایک وقتی مصیبت ہے، جب کہ وہ ان گاؤں والوں کے لیے مستقل مصیبت ہے۔ ہم کو سوچنا چاہیے کہ اللہ نے ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایا ہے۔ ہم کو اس سخت امتحان میں نہیں ڈالا، جس میں گاؤں اور دیہات کے یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں۔ 26 مئی کی شام کو مغرب کی نماز ریاض العلوم میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے مجھے ریاض العلوم کے تحت بننے والا لڑکیوں کا مدرسہ دکھایا گیا۔ یہ ایک کشادہ اور خوب صورت عمارت تھی۔ آج کل سارے ملک میں جگہ جگہ مسلم لڑکیوں کے لیے اسکول اور مدرسے بنائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک بے حد خوش آئند بات ہے۔ کچھ لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ حال میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ جو لڑکیاں عالمہ اور فاضلہ بن رہی ہیں ان میں طلاق کی شرح دوسری لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کو آسانی سے سروس مل جاتی ہے۔ اس لیے ان کے اندر شوہر کے تابع نہ رہنے کا وہی مزاج پیدا ہورہا ہے جو مغربی سماج کی لڑکیوں میں اسی سبب سے پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے بحث نہیں کہ آپ کی یہ اطلاع درست ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ سارے مرد معیاری ہوتے ہیں اور نہ ساری عورتیں۔ آپ پڑھائیں یا نہ پڑھائیں اس دنیا میں کبھی بھی نہ تمام خواتین معیاری خواتین بن جائیں گی اور نہ تمام مرد معیاری مرد۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader