علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح سفر کرتے ہوئے ہم لوگ سرسیا پہنچے۔ یہاں مدرسہ صدیقیہ میں خطاب کا پروگرام تھا۔ اس مدرسہ کو مولانا عبد الرحيم امدادی نے اپنے پیر و مرشد قاری محمد صدیق باندوی کے نام پر قائم کیا ہے۔ یہاں خطاب کا وقت 10 بجے رات تھا۔ یہاں کافی لوگ اکٹھا ہوگئے۔ میں نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی۔ میری تقریر کا موضوع تعلیم دین کی اہمیت تھا۔ میں نے کہا کہ تعلیم دین فرض کے درجہ میں ضروری ہے۔ تعلیم کا تعلق ایمان سے بہت گہرا ہے۔ ایمان کیا ہے، ایمان دراصل دین خدا کی صداقت کو شعوری اور روحانی طور پر دریافت کرنا ہے۔ یہ دریافت عام حالات میں علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ مدرسہ صدیقیہ کے پروگرام میں حاضرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہاں کافی دیر ہو گئی یہاں تک کہ رات کے بارہ بج گئے۔ رات گزارنے کے لیے ہم لوگ ساتھی آگئے پھر صبح کے وقت پٹنہ کے لیے روانہ ہوئے، اور 27 مئی 2000 کی شام کو میں واپس دہلی پہنچا۔ (الرساله، اکتوبر 2000) اسلام کی خدمت جامعہ دارالسلام کے چار طلبہ ملاقات کے لیے آئے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں صحافت کے ذریعہ اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی خدمت کسی صحافت یا غیر صحافت کے ذریعہ نہیں ہوتی ، اسلام کی خدمت صبر اور محنت کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے اندر صبر اور محنت کی صفت پیدا کرلیں تو آپ جہاں بھی رہیں گے آپ کامیاب طور پر اسلام کی خدمت کر سکیں گے۔ اور اگر صبر اور محنت کی صفت آپ کے اندر نہیں ہے تو کہیں بھی آپ اسلام کی مفید خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ (ڈائری ، 14 اگست 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader