ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہفتہ بہار میں مدرسہ صدیقیہ (سر سیا) کی دعوت پر بہار کا سفر ہوا۔ مدرسہ صدیقیہ مولانا عبدالرحیم امدادی نے اپنے مرشد، قاری صدیق باندوی (وفات 1997) کے نام پر قائم کیا ہے۔ 31 اکتوبر 2000 کی شام کو دہلی سے راجدھانی ایکسپریس کے ذریعہ روانگی ہوئی اور 8 نومبر 2000 کی صبح کو دوبارہ راجدھانی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی واپس آیا۔ یہ سفر ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ اس سفر کی روداد مختصر طور پر یہاں درج کی جاتی ہے۔ بہار کا ابتدائی تعارف مجھے تقریباً 65 سال پہلے اس وقت ہوا جب کہ میں یوپی کے ایک عربی مدرسہ کا طالب علم تھا۔ ایک بار بہار کے ایک نوجوان اس مدرسہ میں داخلہ کے لیے آئے۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ دار الاقامہ میں پہنچے تو وہاں کے طلبہ نے سنجیدہ انداز میں کہا: ” کیا آپ کے شامل بدھنا بھی ہے“۔ یہ بظاہر ایک سنجیدہ سوال تھا۔ مگر وہ بہار کے طالب علم کی تضحیک تھی۔ بہار کے طلبہ لوٹے کو بدھنا کہتے تھے اور ساتھ کی جگہ شامل بولتے تھے۔ یہ زبان یوپی والوں سے مختلف تھی۔ اور یوپی والے چونکہ اپنی زبان کو معیار سمجھتے ہیں اس لیے وہ اس قسم کے فرق پر بہار والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ یہ معاملہ صرف نوجوان طلبہ تک محدود نہیں تھا۔ اساتذہ کا رویہ بھی اس معاملہ میں زیادہ مختلف نہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہماری کلاس میں عربی کا ایک لفظ، غالباً دقیق، سامنے آیا۔ ہمارے استاد نے اس کا مطلب پوچھا۔ بہار کے ایک طالب علم نے اس کو بتاتے ہوئے کہا باٹر یک۔ استاد نے یہ سن کر کہا کہ آپ نے تو اس کو اور موٹا کر دیا۔ بہار کے لوگ چونکہ اکثر رَ کو ’ڑ‘ کی طرح بولتے ہیں، اس لیے یہ لطیفہ پیش آیا۔ یوپی اور دہلی کے لوگ بہار والوں کی زبان اور ان کی تہذیب کو لمبی مدت سے اپنے سے کم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader