Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

سمجھتے رہے ہیں۔ چنانچہ ”بہاری“ کا لفظ وسط ہند کی زبان میں کم تر کے معنی میں معروف ہو گیا۔ مگر اب صورتِ حال بالکل بدل گئی ہے۔ یوپی اور دلی کے مسلمانوں کا فخر پسندی کا مزاج ان کے لیے الٹا ثابت ہوا۔ اس مخصوص ذہن کی بنا پر ان کے اندر محنت اور ایڈجسٹمنٹ کا مزاج پرورش نہ پاسکا۔ چنانچہ وہ جدید ترقیاتی میدان میں زیادہ آگے نہ بڑھ سکے۔ اس کے برعکس، بہار کے لوگوں کے حالات نے ان کے اندر تواضع (modesty) اور کمی کا مزاج پیدا کیا۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ زیادہ محنت کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بہار کے مسلمان تقریباً ہر میدان میں یوپی اور دلی کے مسلمانوں سے آگے ہیں، ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی۔ پٹنہ میں انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی خاتون نمائندہ سنجیدہ بانُو نے اپنے اخبار کے لیے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ بھی ایک عالم ہیں، مگر روایتی علما اور آپ کے درمیان فرق ہے ایسا کیوں۔ میں نے کہا کہ میں کوئی ماڈرن عالم نہیں۔ میں بھی پورے معنوں میں ایک روایتی عالم ہوں۔ جہاں تک اسلام اور قرآن وحدیث کا تعلق ہے میرے اور ان کے درمیان عقیدہ وعمل کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس اعتبار سے دونوں کا دین مکمل طور پر ایک ہے۔ میرے اور ان کے درمیان جو فرق ہے وہ نظریہ نہیں بلکہ طریقِ کار ہے۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں نے مدرسہ میں عربی اور دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی پڑھی اور جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ اسلام کی ابدی صداقت کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ آج کے انسان کے لیے زیادہ قابل فہم ہو سکے۔ اس ایک بات کے سوا دونوں کے درمیان کوئی اور فرق نہیں۔ یکم نومبر کی صبح کو پٹنہ سے ڈھا کہ کے لیے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں کئی لوگ میرے ساتھ تھے ۔ برادر م محمد ثناء اللہ ندوی ( 26 سال) بھی میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے 1995 میں ندوہ سے فراغت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی سب سے پہلی کتاب جو میں نے پڑھی وہ الاسلام متحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہے اس کے بعد میں برابر آپ کی تحریریں پڑھتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page