ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں ۔ انہوں نے اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے ۔ " میں نے حضرت کی کتابوں سے جہاد کا صحیح تصور ، دعوت کا حقیقی نہج ، سنتِ رسول کا صحیح نمونہ ، زندگی کا اصل مقصد ، جینے کا حوصلہ ، حق کی تلاش کا سچا جذبہ اور خدمتِ دین کی روحانی قوت کا سبق لیا ہے اور اب الحمد للہ مولانا کی کتابوں سے اور ان کے مشن ، دعوتِ حق سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں ، " برادرِ مُمثِثناء اللہ ندوی بہار کے اس پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ، میں نے انہی کے ذریعہ یہ سفرنامہ لکھوایا ۔ یکم نومبر کو پٹنہ سے ڈھا کہ جاتے ہوئے درمیان میں ہم لوگ مظفر پور سے گزرے یہاں تھوڑی دیر کے لیے قیام کیا گیا ۔ مظفر پور بہار کا ایک شہر ہے جو کپڑے وغیرہ کی مارکیٹ کے لیے مشہور ہے ۔ مظفر پور میں ایک قدیم مدرسہ ہے ۔ یہاں عربی اور دینی تعلیم کا انتظام ہے ۔ مولانا عبدالرحیم امدادی نے کہا کہ ان کے شیخ حضرت قاری محمد صدیق باندوی نے سلّم کی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی تھی۔ سلّم قدیم منطق کے موضوع پر ایک کتاب ہے ۔ اس کا پورا نام سلّم العلوم ہے ۔ اس کے مصنف بہار کے ایک عالم قاضی محب اللہ بہاری ( وفات 1119ھ ) ہیں ۔ وہ اور نگ زیب عالمگیر کے ہم عصر تھے ۔ قدیم زمانے میں منطق کی اس کتاب کی اتنی زیادہ اہمیت ہوئی کہ اور نگ زیب نے قاضی محب اللہ بہاری کو اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لیے مقرر کیا۔ مگر اب اس کتاب کی اہمیت زیادہ تر تاریخی ہے عصری منطق کے اعتبار سے اس کی زیادہ اہمیت نہیں۔ سلّم العلوم کی شرحیں کثرت سے لکھی گئی ہیں ۔ " شرح نویسی “ کا یہ طریقہ میرے نزدیک صرف تقلیدی ذہن کی پیداوار ہے۔ صحیح یہ ہے کہ لکھنے والے لوگ خود اپنی تحقیق سے نئی کتابیں لکھیں۔ شرح نویسی کے اس طریقہ کا نقصان یہ ہوا کہ بعد کے زمانے میں ذہنی ارتقاء کا عمل رک گیا۔ لوگوں نے قدیم متنوں کو مقدس سمجھ لیا اس کے بعد انسانی ذہن کا کام صرف اس کی شرح لکھنارہ گیا نہ کہ خود کوئی نیا اور تخلیقی کام پیش کرنا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader