ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
برادر محمد ثناء اللہ ندوی نے بتایا کہ وہ نہ صرف خود الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پڑھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنے تجربات کے دائرے میں انہوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنی دکان پر میری کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ پڑھ رہے تھے۔ اس اثناء میں ایک مقامی عالم آگئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ یہ مولانا وحید الدین خان کی کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ ہے۔ انہوں نے یہ سنتے ہی کہا کہ لاحول ولاقوۃ۔ یہ تم کس کی کتاب پڑھ رہے ہو۔ یہ تو مسلم دشمنوں کے ایجنٹ ہیں، وہ معمر قذافی کے آدمی ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہا کیا آپ نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے بغیر جانے ہوئے کیسے رائے قائم کرلی۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں وہ تو لیبیا کے معمر قذافی کے ایجنٹ ہیں جو ایک بدنام دشمن اسلام ہے۔ جناب ثناء اللہ ندوی کے پاس اس وقت راقم الحروف کی کتاب غیر ملکی اسفار حصہ اول تھی جس کو وہ پڑھ چکے تھے۔ اس کتاب میں لیبیا کا ایک سفرنامہ شامل ہے۔ جس میں معمر قذافی کے بارے میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں: مجھے کرنل قذافی کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرنل قذافی کے ثورہ (انقلاب) نے لیبیا کو نقصان زیادہ پہنچایا ہے اور فائدہ کم۔ اسلام کے بارے میں بھی ان کی بہت سی تعبیرات احمقانہ ہیں“ (صفحہ 11)۔ ثناء اللہ ندوی صاحب نے بتایا کہ اس اقتباس کو سننے کے بعد مذکورہ عالم اس قدر مبہوت ہوئے کہ وہ حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ ان کی خاموشی اس بات کی علامت تھی کہ وہ اس مطبوعہ اقتباس کو دیکھنے کے بعد سرتا سر لا جواب ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ میں اس معاملے میں سخت غلطی پر تھا۔ بلکہ انہوں نے صرف یہ کیا کہ موضوع بدل کر دوسری بات شروع کر دی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader