ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔ خود اس پر کتنے ہی زیادہ دلائل دے دیے جائیں۔ ان میں سے کوئی شخص یہ کرتا ہے کہ دلائل کے مقابلے میں بے بس ہو کر چپ ہو جاتا ہے۔ اور کوئی شخص اس کے بعد بھی بے تکان بولتا رہتا ہے۔ خواہ اس کو خود بھی اپنے بولے ہوئے الفاظ کا مطلب معلوم نہ ہو۔ راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے یہاں۔ کچھ دیر کے لیے مدرسہ خیر العلوم میں قیام کیا۔ اس کے ناظم مولانا محمد عالم القاسمی ہیں یہ مدرسہ 1974 میں قائم ہوا۔ یہاں ڈیڑھ سو طلباء کی تعلیم کا انتظام ہے ۔ اساتذہ اور دوسرے کارکنوں کی تعداد سترہ ہے۔ یہ مدرسہ ایک پرسکون جگہ پر واقع ہے۔ اس طرح کے لاکھوں چھوٹے بڑے مدرسے پورے ملک میں خاموش کام کر رہے ہیں۔ وہ علم دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچارہے ہیں انہی مدارس کا یہ کارنامہ ہے کہ ہندوستان میں آج علم دین زندہ ہے۔ مسلم ملکوں میں احیاء تعلیم کا یہ کام حکومتوں کے تعاون سے ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں یہ کام علما کی قربانیوں کے ذریعہ انجام پارہا ہے۔ ہندوستان میں اتنی بڑی تعداد میں مدارس دینیہ کی موجودگی اس خدائی ضمانت کی ایک زندہ مثال ہے جس کو حفاظت دین کہا جاتا ہے۔ مدارس کے موضوع میں نے ایک مفصل مقالہ شائع کیا ہے یہ مقالہ ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ ستمبر 2000 میں تفصیل کے ساتھ چھپا ہے۔ میں نے ظہر کی نماز اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد طلباء و اساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس خطاب میں، میں نے کہا کہ یہ مدارس ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے اس تحفظ دین کا ذریعہ ہیں جس کا فیصلہ اللہ نے فرمایا ہے۔ اللہ کا یہ فیصلہ اسباب کے اعتبار سے زیادہ تر انہیں مدارس کے ذریعہ انجام پا رہا ہے۔ سفر کے دوران اس بات کا اندازہ ہوا کہ الرسالہ مشن کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ مثلاً اس سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ میرے اس سفر کا پروگرام طے کرنے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader