Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا عبد الرحیم امدادی نے مختلف مقامات کے سفر کیے تا کہ پروگرام کا نظام بنا سکیں ۔ اس سلسلے میں وہ ڈھا کہ گئے ۔ وہاں ان کو جناب عطاء اللہ ڈھا کوی سے ملنا تھا۔ ایک کپڑے کے تاجر سے انہوں نے عطاء اللہ صاحب ڈھا کوی کا پتہ پوچھا۔ اس تاجر نے اپنے قیاس کے ذریعہ مولانا عبد الرحیم امدادی سے کہا "غالباً آپ مولانا وحید الدین کے پروگرام سلسلے میں یہاں آئے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، تاجر نے کہا کہ میں خود بھی مولانا کا شیدائی ہوں۔ اس کے بعد مذکورہ تاجر مولانا عبد الرحیم امدادی کو اپنی دکان میں لے گئے اور کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔ یہ تاجر محمد ثناء اللہ ندوی تھے۔ انہوں نے الرسالہ مشن کی کافی کتابیں پڑھی ہیں۔ اور وہ پوری طرح اس مشن میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے پہلے ان کا تعارف اس حیثیت سے نہ مجھ سے تھا اور نہ کسی اور سے ۔ یکم نومبر 2000 سے پہلے میں محمد ثناء اللہ ندوی کا نام بھی نہیں جانتا تھا مگر اس سفر کے دوران ان کا جو تعارف ہوا اس سے معلوم ہوا کہ وہ خود اپنی ذات میں دعوت کی ایک تاریخ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی دعوتی زندگی کے کئی ایسے واقعات بتائے جو میرے جیسے آدمی کے لیے بلاشبہ حیرت انگیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھا کہ میں ایک نوجوان محمد نسیم احمد ہیں۔ میں ان کو تقریبا پانچ سال سے جانتا تھا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الرسالہ مشن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ موجودہ پروگرام کے تحت عبد الرحیم امدادی صاحب ڈھا کہ آئے ۔ وہ ان کی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس درمیان اتفاق سے محمد نسیم صاحب وہاں آ گئے۔ انہوں نے نسیم صاحب کو پروگرام کی بابت بتایا ۔ وہ بہت خوش ہوئے اور پھر انہوں نے اپنے بارے میں یہ بات بتائی کہ وہ الرسالہ مشن کی ساری کتابیں پڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے الرسالہ کے بہت سے شمارے دہلی سے منگو اکر تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہار کے اس پروگرام میں شروع سے آخر تک شریک رہوں گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page