ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عجیب سبق آموز بات معلوم ہوئی کہ بہار کا موجودہ پروگرام اتفاق سے ایسے وقت بنا جب کہ یہاں ہندوؤں میں چھٹ تیوہار پڑ رہا تھا۔ یہ کپڑے کی تجارت کے لیے سیزن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محمد ثناء اللہ ندوی کے لیے ایک آزمائش کا لمحہ تھا۔ وہ دکان میں بیٹھ کر سیزن کا فائدہ اٹھائیں یا دکان کو بند کر کے ہمارے پروگراموں میں شرکت کریں۔ پروگرام میں شرکت کے لیے دکان کو بند کرنا ضروری تھا کیوں کہ ان کی غیر موجودگی میں دوسرا کوئی شخص نہ تھا جو دکان کو دیکھے۔ 31 اکتوبر 2000 کو وہ اپنی دکان پر تھے، شام 3 بجے تک سترہ ہزار روپے کی بکری ہو چکی تھی اور خریداروں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ تین بجے انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہر حال مجھے پروگرام میں شرکت کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے گاہکوں کی بھیڑ چھوڑ دی اور دکان کو بند کر کے اللہ پر توکل کرتے ہوئے پٹنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ یکم نومبر کو محمد ثناء اللہ ندوی نے اپنا یہ واقعہ بتایا تو میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ میں کہا کہ خدایا تو اس نوجوان کی اور ہم سب کی مدد فرما۔ سید نعیم اختر صاحب منشاء ٹولہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل دنیا بھر کے علما جہاد کی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ ہر ملک کے مسلمانوں کو جہاد کے اوپر بھڑکائے ہوئے ہیں۔ صرف آپ ایک ایسے عالم ہی جو جہاد اور ٹکراؤ کی بات نہیں کرتے۔ ایسا کیوں، کس طرح یہ سمجھا جائے کہ دونوں میں سے کون بر حق ہے۔ میں نے کہا کہ جہاد کو بطور ایک شرعی حکم کے میں بھی اسی طرح مانتا ہوں جس طرح دوسرے علما مانتے ہیں۔ مگر شریعت کے ہر حکم کی کچھ شرطیں ہیں، اسی طرح جہاد کی بھی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ تمام علما ء کی متفقہ رائے کے مطابق، جہاد سے پہلے دعوت ضروری ہے۔ دعوت کی پر امن جد و جہد کے بغیر مسلح جہاد چھیڑنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ میرا یہ کہنا ہے کہ موجودہ زمانے میں ہمارا پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم دوسری قوم تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ نہ یہ کہ ملک و مال کی شکایتوں کو لے کر ان سے لڑنا شروع کر دیں۔ شرائط کی تکمیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader