ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ شریعت کی نظر میں فساد ہوگا، نہ کہ جہاد۔ دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض وہ حالات پیدا ہو جائیں جب کہ جہاد کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے تب بھی جہاد سے پہلے اعداد ( تیاری ) کا مرحلہ طے کرنا ضروری ہوگا۔ اعداد کے بغیر جہاد صرف ایک خودکشی کا فعل ہے، وہ ہرگز جہاد نہیں۔ اکثر پر جوش مسلمان اس معاملے میں غزوہ بدر کا حوالہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فریق ثانی کی نسبت سے کوئی تیاری نہیں تھی پھر بھی مسلمانوں نے ان سے جنگ کی اور کامیاب ہوئے۔ میرے نزدیک ایسا کہنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والا مجرمانہ حد تک قرآن سے ناواقف ہے۔ قرآن سے واضح طور پر ثابت ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مکہ سے ایک ہزار مسلح فوج مدینہ کی طرف آرہی ہے تو مسلمان اپنی عدم تیاری کی بنا پر ان سے مڈ بھیڑ کے لیے راضی نہ تھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس یہ خوش خبری بھیجی کہ تم لوگ آگے بڑھو، میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے لگا تار بھیج رہا ہوں (الأنفال، 9:9)۔ اللہ تعالیٰ کی اس واضح یقین دہانی کے بعد مسلمان کمزور یا تیاری کے بغیر نہیں رہے۔ بلکہ وہ تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی جب کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بدر کا حوالہ دے کر کم از کم ڈیڑھ سو سال سے بار بار لڑ رہے ہیں۔ اور ہر موقع پر ایک طرفہ شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ اگر وہ " بدر" کو دہرارہے ہیں تو بدر کا نتیجہ ان کے حصے میں کیوں نہیں آیا۔ ایک صاحب جو مدرسہ سے فارغ تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے علما کے کارناموں پر کچھ نہیں لکھا اس کا سبب کیا ہے میں نے کہا شاید آپ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ ابھی ستمبر 2000 کا شمارہ جو خصوصی طور پر 80 صفحات میں شائع ہوا ہے وہ پورا کا پوراشمارہ علما کے کارناموں ہی پر مشتمل ہے۔ 2 نومبر کی صبح کو آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھا کہ کا معائنہ کیا۔ یہ مدرسہ 1942 میں قائم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader