Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

گیاگیا۔ اس مدرسہ کا قیام مولانا حسین احمد مدنی کی تحریک پر عمل میں آیا۔ اس مدرسہ کے ناظم قاری محمد انوار الحق اور صدر مدرس مولانا عبد السلام صاحب ہیں۔ یہاں طلبہ واساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے مختصر طور پر علم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں علم ہی طاقت کا سر چشمہ ہے۔ قدیم زمانے میں اہل اسلام دنیا میں غالب ہوئے تو اس کا راز شمشیر نہیں تھا بلکہ علم تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اہل مغرب نے دنیا میں جو غلبہ حاصل کیا ہے اس کا راز بھی اہل مغرب کی سازش نہیں ہے بلکہ علم ہے۔ علم طاقت ہے (knowledge is power) یہ اصول ہر ایک کے لیے ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو بیک وقت دو چیزوں میں کمال حاصل کرنا ہے ۔ دین اور علم ۔ دونوں میں سے کسی ایک کی کمی بیک وقت دونوں ہی کے لیے نقصان کا باعث ہوگی۔ ایک پندرہ سالہ بچہ ابراہیم ڈھا کوی سے مجھ کو ملایا گیا۔ اس کے والد نے کہا کہ یہ بچہ پڑھنے میں محنت کرتا ہے لیکن اس کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ میں نے کہا کہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے بہت سے بڑے لوگ اپنی ابتدائی عمر میں کمزور طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے مگر یہی لوگ تھے جنہوں نے بعد کو بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ فطرت کی طرف سے ہر انسان کو صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔ البتہ کسی کی صلاحیت شروع ہی سے نمایاں ہو جاتی ہے اور کسی کی صلاحیت بعد کو ظہور میں آتی ہے۔ 2 نومبر کو دس بجے ہم لوگ جامعہ الامام ابن تیمیہ چندن بارہ پہنچے۔ اس ادارہ کی بنیاد 1964 میں رکھی گئی۔ اس جامعہ کو دیکھ کر ایک عجیب تاثر ہوا۔ میں نے بعض ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھا تھا کہ نیپال کی سرحد کے قریب مسلمانوں نے اپنے تعلیمی ادارے بنائے ہیں جہاں جنگجوئی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ نیپال کی سرحد سے صرف تین کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اور مذکورہ رپورٹوں میں خصوصی طور پر اس کا بھی ذکر تھا ۔ میں نے اگرچہ اس سے پہلے ٹی وی انٹرویو میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں خود مدرسہ ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page